ایرانی سپریم لیڈر کا حکومت کے حق میں مظاہروں پر قوم کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
تہران:
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دشمن قوتیں ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اندرونِ ملک کرائے کے ایجنٹوں کو استعمال کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایرانی عوام نے ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی قوم نے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے عزم، شعور اور قومی شناخت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا
ان کے مطابق یہ مظاہرے دراصل امریکی سیاستدانوں کے لیے ایک واضح پیغام اور انتباہ تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فریبی اقدامات بند کرے اور اپنے آلہ کاروں پر انحصار کرنا چھوڑ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم مضبوط، طاقتور اور باخبر ہے، دشمن کو اچھی طرح پہچانتی ہے اور اس کے خلاف ہمیشہ میدان میں موجود رہتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی عوام کا اتحاد اور بیداری دشمنوں کے تمام عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے اور یہی قوت ایران کی اصل طاقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایرانی قوم انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔