جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے حکومت اور الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کو حقیقی معنوں میں آزاد، منصفانہ اور سب کے لیے قابلِ قبول بنائیں، کیونکہ شفاف انتخابات کے بغیر اچھا طرزِ حکمرانی ممکن نہیں۔
وہ پیر کے روز بنگلہ دیش مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران کے ساتھ منعقدہ ایک مکالمے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا: آئیں مل کر بنگلہ دیش بنائیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہر شہری کو بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشن جانے اور اپنے ووٹ کا درست عکس نتائج میں دیکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات پر یورپی یونین کی کڑی نظر، 200 مبصرین تعینات
یہ تقریب دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع بنگلہ دیش-چین فرینڈشپ کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں فوج کے متعدد ریٹائرڈ سینیئر افسران اور جماعتِ اسلامی کے رہنما شریک تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن شفاف اور غیرجانبدار انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دینے کا ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ اس میں ناکام رہیں تو ذمہ داروں کو خود الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کسی بھی قسم کے ’منظم یا مفاہمتی انتخابات‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی قانونی حیثیت عوام کے ووٹ سے حاصل کرنی چاہیے، نہ کہ غیر منتخب قوتوں سے۔
نوجوان ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں نوجوان نسل ووٹ ڈالے گی اور جماعت ان کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گی۔
ریٹائرڈ فوجی افسران سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ اب ان کی ذمہ داری صرف قومی دفاع تک محدود نہیں بلکہ سماجی احتساب اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ تک پھیلی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے طارق رحمان کو چیئرمین مقرر کر دیا
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کرپشن کے خلاف جماعتِ اسلامی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نہ خود بدعنوانی میں ملوث ہوگی اور نہ ہی اسے فروغ دینے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے قوم کے لیے جان قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قومی ہیروز کو مناسب عزت دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آنے والی نسلیں ان کی قربانیوں سے سبق حاصل کر سکیں۔
تاریخی تناظر میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عوام کو انصاف سے محروم رکھا گیا، جس کے نتیجے میں 1971 کی جنگ کے ذریعے بنگلہ دیش وجود میں آیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں
انہوں نے اس جدوجہد میں فوج کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کردار سے انکار تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے حالیہ برسوں میں سیاسی بحران کے دوران مسلح افواج کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کو خانہ جنگی کی طرف جانے سے بچایا گیا۔
موجودہ سیاست پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کو ماضی کی تحریکوں میں جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا، مگر جماعت نے جماعتی مفاد کے بجائے ملک کے تحفظ کے لیے ثابت قدمی دکھائی۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین اور بنگلہ دیش کے درمیان جامع شراکت داری معاہدے کی تیاری
انہوں نے حالیہ عوامی تحریکوں کے بارے میں یہ دعویٰ بھی مسترد کیا کہ یہ کسی ایک فرد کی منصوبہ بندی تھیں، اور کہا کہ اصل قوت عوام خود تھے۔
انہوں نے وزیرِاعظم اور صدر سمیت تمام اداروں اور شخصیات کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون اور نگرانی سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ادارہ جاتی حدود کو پامال کیا گیا تو عدم استحکام جنم لے گا، جبکہ فوج کی اولین ذمہ داری قومی سرحدوں کا دفاع ہے۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین اور بنگلہ دیش کے درمیان جامع شراکت داری معاہدے کی تیاری
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات سے قبل بنگلہ دیش ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور 2014، 2018 اور 2024 کے متنازع انتخابات نے نوجوان نسل کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھا۔
انہوں نے ایک ترقی پسند اور محفوظ بنگلہ دیش کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ آئندہ نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ ملک سونپا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن امیر بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان ڈھاکا مشرقی پاکستان ووٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان ڈھاکا مشرقی پاکستان ووٹ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ہوئے کہا کہ مزید پڑھیں کرتے ہوئے بنگلہ دیش اسلامی کے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔