تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز نے تصدیق کی ہے کہ تیکناف سرحد کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے تمام 53 روہنگیا افراد، اوکھیا اور تیکناف کے مہاجر کیمپوں میں رجسٹرڈ مہاجر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی
مقامی حکام کے مطابق یہ گروپ اس سے قبل کاکس بازار کے مہاجر کیمپوں سے نکل کر سمندری اور دریائی راستوں کے ذریعے میانمار کی ریاست راکھین میں داخل ہوا تھا۔
تاہم راکھین میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی اور فائرنگ کے باعث انہوں نے اتوار کے روز نَف دریا عبور کر کے بنگلہ دیش واپس آنے کی کوشش کی۔
ان افراد کو تیکناف کے ہوائیکانگ سرحدی علاقے میں گشت کے دوران بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے حراست میں لیا جس کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
مزید پڑھیے: بھارتی حکام سے حقوق انسانی تنظیم کا روہنگیا ماں کی رہائی کا مطالبہ
پولیس کے مطابق تیکناف ماڈل پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں شامل ایک 20 سالہ روہنگیا نوجوان کفایت اللہ کو گولی لگنے کے زخم آئے تھے۔ اسے پہلے ٹیکناف اپازلا ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا بعد ازاں چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ سرحدی فورس کی جانب سے درج مقدمے میں کفایت اللہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد مہاجر کیمپوں کے رہائشی ہیں تاہم یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ان میں سے کسی کے میانمار میں سرگرم مسلح روہنگیا گروہوں سے روابط تو نہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا
ادھر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست راکھین میں اراکان آرمی اور روہنگیا مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران بعض گولیاں بنگلہ دیشی حدود میں داخل ہو گئیں جس کے نتیجے میں ٹیکناف کے ہوائیکانگ علاقے میں ایک اسکول جانے والی بچی زخمی ہو گئی۔ بچی اس وقت چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال میں زیر علاج ہے، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک قرار دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کیجانب سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری
یہ واقعہ ایک بار پھر بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے جہاں راکھین میں بڑھتی ہوئی بدامنی خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز تیکناف روہنگیا روہنگیا مہاجر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز روہنگیا روہنگیا مہاجر راکھین میں بنگلہ دیش
پڑھیں:
کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل
ڈیرہ اسماعیل خان+ کوہاٹ (نامہ نگاران) کوہاٹ شہر کے علاقہ چشمہ جات کے قریب فائرنگ سے ایک راہگیر بچے سمیت دو افراد کو قتل کر دیا گیا۔ قتل ہونے والا شخص کرم پولیس کا اہلکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوہاٹ شہر کے علاقہ چشمہ جات کے قریب نامعلوم ملزموں کی جانب سے فائرنگ میں کرم پولیس کا اہلکار رحیم سکنہ جنگل خیل کوہاٹ اور ایک راہگیر بچہ نقیب اللہ سکنہ میاں گڑھی جو نہانے کے لئے چشمہ جات آیا ہوا تھا۔ لگ کر جان بحق ہوگئے۔ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پنیالہ کے گائوں کٹہ خیل میں نامعلوم ملزموں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل پنیالہ کی گائوں کٹہ خیل میں نامعلوم ملزموں نے مسجد کے اندر نماز ادا کرنیوالے نوجوان وحید اللہ ولد عبدالرشید سکنہ محلہ بیگ خیل کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔