شکارپور میں سردی کی شدت میں اضافہ، ٹریفک اور معمولاتِ زندگی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
عبدالجبار ابڑو : سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح شکارپور میں بھی شدید دھندنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ اور حدِ نگاہ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ شدید سردی اور دھند کے باعث ضلع بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں میں طلبہ کی حاضری معمول سے کم ہو گئی ہے۔
شکارپور میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شدید دھند کے سبب درجہ حرارت کم ہو کر 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دھند کے باعث شہر اور گردونواح میں حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں قومی شاہراہوں اور انڈس ہائی وے پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دوسرے صوبوں اور اضلاع کو جانے والی مسافر گاڑیاں تاخیر کا شکار ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
شدید سردی اور دھند کے باعث روزمرہ زندگی بھی متاثر ہو گئی ہے، جبکہ ضلع بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبہ کی حاضری معمول سے کم ریکارڈ کی گئی۔ والدین نے بچوں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں گھروں میں رکھنا مناسب سمجھا۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دورانِ سفر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔