اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے، مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے، یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو، اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر لے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تاکہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا تک مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے۔ لاہور میں جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال رہا ہے، کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج، کام اور مختلف پہلو اسلام کے متصادم رہا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے، مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے، یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو، اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر لے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تاکہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس پکڑ لیتا ہے، جس کی سمجھ میں جو بات آئی اُس نے وہ ہی شروع کر دی، دنیا میں مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر آزادی کی خاطر ہماری قربانیاں نمایاں ہیں۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کا دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں، جس کہ پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے، امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے، روس بھی اس کے پیچھے ہے، ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں، اِس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے، ایک برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں، اِس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پہ گزری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا منفی انداز کے خلاف
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز