بیرسٹر گوہر کی حکومت پر تنقید، سندھ حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تحفظات
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے آغاز کے باوجود پاکستان کے مسائل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک کے مسائل جوں کے توں ہیں اور عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انہوں نے سندھ حکومت کے رویے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا، خاص طور پر سندھ حکومت کے آخری دن کے رویے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کا دورہ سندھ بہت اچھا رہا مگر سندھ حکومت نے اس موقع پر جمہوری انداز میں رویہ اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کو ٹوپی اور اجرک کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے تھا، جو کہ سندھ کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں، موجودہ حکومت اب اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ کر ونڈربوائے (ہچکچاتی حکومت) کی متلاشی ہوگئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے تاکہ حکومت ہوم الون (تنہا) ہونے کے خطرات سے بچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی صورتحال میں جلد ہی کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی تو حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔