شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے نئی سہولت کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ای سہولت فرنچائزز پر شناختی دستاویزات اور شناختی کارڈ کی تجدید کی سہولیات منتخب ای سہولت فرنچائزز پر فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔
نادرا فرنچائز پر شہریوں کو کون کون سی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور یہ سہولیات کن فرنچائزز پر دستیاب ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ شادیاں طلاقیں پیدائش اور وفات زیادہ ہو رہی ہیں جبکہ لوگ ان کا اندراج کم کرارہے ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں نادرا نے ریڈیو پاکستان سے معاہدہ کیا ہے جس کے ذریعے عوام میں آگاہی فراہم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہے ہم نے وہاں بے شمار سینٹرز کھولے لیکن رش مزید بڑھتا ہی جارہا ہے۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب کچھ خاص علاقوں کی دکانوں پر ای سہولت کا آغاز کررہے ہیں، لیکن وہاں پر کوائف تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔
مختلف محلوں اور بازاروں میں قائم ان منی سینٹرز میں شہریوں کیلیے ای سہولت فرنچائز پر شناختی کارڈ کا جلد حصول ممکن ہوسکے گا۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
اس طرح کے دیگر سوالات اور شہریوں کی طرف سے شناختی دستاویزات کے بارے میں پوچھے گئے دیگر کئی سوالات کے جوابات کے لئے دیکھنے کیلیئے مکمل پوڈکاسٹ اس لنک پر ملاحظہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔