شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے نئی سہولت کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ای سہولت فرنچائزز پر شناختی دستاویزات اور شناختی کارڈ کی تجدید کی سہولیات منتخب ای سہولت فرنچائزز پر فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔
نادرا فرنچائز پر شہریوں کو کون کون سی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور یہ سہولیات کن فرنچائزز پر دستیاب ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ شادیاں طلاقیں پیدائش اور وفات زیادہ ہو رہی ہیں جبکہ لوگ ان کا اندراج کم کرارہے ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں نادرا نے ریڈیو پاکستان سے معاہدہ کیا ہے جس کے ذریعے عوام میں آگاہی فراہم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہے ہم نے وہاں بے شمار سینٹرز کھولے لیکن رش مزید بڑھتا ہی جارہا ہے۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب کچھ خاص علاقوں کی دکانوں پر ای سہولت کا آغاز کررہے ہیں، لیکن وہاں پر کوائف تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔
مختلف محلوں اور بازاروں میں قائم ان منی سینٹرز میں شہریوں کیلیے ای سہولت فرنچائز پر شناختی کارڈ کا جلد حصول ممکن ہوسکے گا۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
اس طرح کے دیگر سوالات اور شہریوں کی طرف سے شناختی دستاویزات کے بارے میں پوچھے گئے دیگر کئی سوالات کے جوابات کے لئے دیکھنے کیلیئے مکمل پوڈکاسٹ اس لنک پر ملاحظہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔