صوبہ بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا, لاکھوں شہری مستفید
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سٹی42: ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کے احکامات پر صوبہ بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا جاری ہے اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ترجمان ٹریفک کے مطابق سال کے پہلے 10 دنوں میں 3 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان میں سے 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد شہریوں نے ریگولر ڈرائیونگ لائسنس بنوائے جبکہ 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد شہریوں نے لرننگ، ریگولر اور انٹرنیشنل لائسنس کی تجدید کروائی۔ نئے سال کے دوران 1400 پاکستانی شہریوں نے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ حاصل کیا، اور 1 لاکھ 29 ہزار سے زائد شہری جدید آن لائن لائسنسنگ پورٹل سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا ڈرائیونگ لائسنس بنوانا خوش آئند عمل ہے اور شہریوں نے ٹریفک پولیس پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026 میں بھی شہریوں کا اعتماد بحال رکھا جائے گا اور لائسنسنگ سہولیات میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 ڈرائیونگ لائسنس شہریوں نے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔