معروف یوٹیوبر آئی شو اسپیڈ کے حالیہ دورۂ کینیا نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ نیروبی کی سڑکوں پر بھی غیر معمولی ہلچل مچا دی، جس کے بعد کینیا بھر میں آن لائن صارفین میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

اتوار کے روز نیروبی کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں ان کی اچانک آمد پر ہزاروں مداح سڑکوں پر نکل آئے اور ان کو گھیر لیا۔ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ان کے ہمراہ چلتی رہیں جبکہ لوگ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جمع ہو کر موبائل فونز کے ذریعے ویڈیوز بناتے نظر آئے۔ اس دوران ٹریفک کی روانی عارضی طور پر متاثر ہوئی، یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

IShowSpeed competes with the best jumper of the Maasai tribe in Maasai Mara, Kenya ????????????

Who made the highest jump though? pic.

twitter.com/Yft6i9JoUF

— Saken (@sakenexe) January 12, 2026

نیروبی میں ان کی آمد ’اسپیڈ ڈوز افریقہ‘ کے نام سے جاری 28 روزہ لائیو اسٹریمنگ ٹور کا حصہ تھی جس کے دوران وہ 20 افریقی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ مقامی ثقافت، عوام اور روزمرہ زندگی کو براہِ راست دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

کینیا میں ان کا قیام 11 جنوری 2026 کو ہوا جو اس ٹور کے سب سے زیادہ مقبول مراحل میں سے ایک ثابت ہوا۔ چند ہی گھنٹوں میں ان کی لائیو نشریات کو 200 ہزار سے زائد افراد نے بیک وقت دیکھا جبکہ ہزاروں نئے سبسکرائبرز کے اضافے کے ساتھ ان کا یوٹیوب چینل 48 ملین سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کر گیا۔

How Kenyans broke IShowSpeed’s Africa tour record pic.twitter.com/io4tWAo4LJ

— Daily Nation (@NationAfrica) January 12, 2026

دورے کے دوران آئی شو اسپیڈ نے طلبہ سے ملاقات کی، کینیا کے مقامی کھانوں کا تجربہ کیا، مشہور سیاحتی مقامات کا دورہ کیا اور نیروبی کی فضائی سیر کے لیے ہیلی کاپٹر میں سفر کیا جہاں انہوں نے لائیو کیمرے پر سبسکرائبرز کی نئی تعداد کا جشن منایا۔

ان مناظر کے بعد کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر سوالات اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ آخر آئی شو اسپیڈ کون ہیں اور وہ کیسے اتنی کم عمر میں عالمی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

آئی شو اسپیڈ کون ہیں؟

آئی شو اسپیڈ، جن کا اصل نام ڈیرن جیسن واٹکنز جونیئر ہے، 21 جنوری 2005 کو امریکی ریاست اوہائیو کے شہر سنسناٹی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گیمنگ کانٹینٹ، خصوصاً فیفا لائیو اسٹریمز کے ذریعے شہرت حاصل کی، بعد ازاں حقیقی زندگی پر مبنی (IRL) لائیو اسٹریمز کے ذریعے اپنی پہچان کو مزید وسعت دی۔

انہوں نے 2016 میں کانٹینٹ کریئیشن کا آغاز کیا اور 2020 سے 2021 کے دوران عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ ان کا غیر فلٹر شدہ اور فطری انداز ہے جس میں اچانک ردِعمل، مزاح اور ناظرین کے ساتھ براہِ راست رابطہ شامل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معروف یوٹیوبر گھر میں مردہ پائے گئے، موت کی وجہ تاحال سامنے نہ آ سکی

ان کا مواد بالخصوص ٹک ٹاک پر تیزی سے وائرل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کروڑوں مداح بنانے میں کامیاب ہوئے، جبکہ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 48 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

لائیو اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ آئی شو اسپیڈ نے موسیقی کے شعبے میں بھی قدم رکھا اور بڑے میوزک لیبلز کے تحت کام کیا۔ انہیں متعدد بین الاقوامی اعزازات بھی مل چکے ہیں، جن میں اسٹریمر آف دی ایئر جیسے اعزازات شامل ہیں جو عالمی نوجوان ثقافت میں ان کے مضبوط مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی شو اسپیڈ کا دورۂ کینیا آئی شو اسپیڈ آئی شو اسپیڈ کینیا آئی شو اسپیڈ نیروبی کینیا نیروبی ویڈیو وائرل یو ٹیوبر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی شو اسپیڈ کا دورۂ کینیا ا ئی شو اسپیڈ ا ئی شو اسپیڈ کینیا ا ئی شو اسپیڈ نیروبی کینیا ویڈیو وائرل یو ٹیوبر آئی شو اسپیڈ نیروبی کی

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟