مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
میٹا پلیٹ فارمز نے پیر کے روز سابق ٹرمپ انتظامیہ کی عہدیدار دینا پاول میک کارمک کو کمپنی کی صدر اور نائب چیئرپرسن مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس پیشرفت سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں کمپنی کی لابنگ سرگرمیوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے چینی اے آئی ’مانس‘ 2 ارب ڈالر میں خرید لیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمپنی کی جانب سے ترقی کے اعلان کے چند منٹ بعد ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں دینا پاول میک کارمک کو مبارک باد دی۔
ٹرمپ نے انہیں ایک شاندار اور نہایت باصلاحیت شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کی انتظامیہ میں قوت اور امتیاز کے ساتھ خدمات انجام دیں۔
Meta named Dina Powell McCormick as its president and vice chairman.
— Business Insider (@BusinessInsider) January 12, 2026
دینا پاول میک کارمک کی تقرری ان تبدیلیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو میٹا نے گزشتہ ایک سال کے دوران کی ہیں، جن کا مقصد کمپنی کو صدر ٹرمپ کے مزید قریب لانا ہے۔
میٹا جدید مصنوعی ذہانت اور ذاتی سپر انٹیلیجنس میں سرمایہ کاری تیز کر رہا ہے۔
چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ ان منصوبوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
مزید پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی حلف برداری سے قبل مارک زکربرگ نے فلوریڈا میں ٹرمپ کے مارا لاگو ریزورٹ میں ان سے ملاقات بھی کی تھی۔
اس کے علاوہ میٹا نے امریکا میں اپنا فیکٹ چیکنگ پروگرام ختم کر دیا، ریپبلکن رہنما جوئل کیپلن کو چیف گلوبل افیئرز آفیسر مقرر کیا، اور تنوع سے متعلق پروگرامز بھی بند کر دیے۔
یہ تمام اقدامات ایسے تھے جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی۔ جنوری کے آغاز میں میٹا نے سابق ٹرمپ تجارتی مشیر سی جے مہونی کو قانونی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا، جبکہ سابق جنرل کونسل جینیفر نیوسٹیڈ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جو خود بھی ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ رہ چکی تھیں۔
میٹا نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا دینا پاول میک کارمک کی تقرری کا مقصد صدر ٹرمپ کو خوش کرنا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: بچوں سے ’رومانوی‘ چیٹ پر میٹا امریکا میں تحقیقات کی زد میں
کمپنی کے بیان کے مطابق دینا پاول میک کارمک میٹا کو ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ، نئے اسٹریٹجک سرمایہ جاتی شراکت داریوں کے قیام اور کمپنی کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی صلاحیت میں اضافے میں مدد دیں گی۔
دینا پاول میک کارمک نے گولڈمین سیکس میں 16 برس تک اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر رہیں، جبکہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کی سینئر مشیر بھی رہ چکی ہیں۔
ان کے شوہر امریکی سینیٹر ڈیوڈ میک کارمک ہیں، جو ریاست پنسلوانیا سے ریپبلکن رکن ہیں اور توانائی پالیسی سے متعلق سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، یہ وہ شعبہ ہے جس سے دینا پاول میک کارمک کا کردار میٹا میں بھی جڑا ہوگا۔
مزید پڑھیں: میٹا چیٹ بوٹ سے ملنے کی کوشش میں امریکی شہری کی ہلاکت
سینیٹر کے ترجمان کیٹی مونٹگمری نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ سینیٹر میک کارمک ’امریکی سینیٹ کے تمام اخلاقی ضوابط کی پابندی جاری رکھیں گے۔‘
تاہم، ٹیک اوور سائٹ پروجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساچا ہوورتھ نے کہا کہ ’سینیٹر میک کارمک کو میٹا کے کاروبار سے متعلق ہر ووٹ اور کمیٹی کارروائی سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔‘
دینا پاول میک کارمک کا یہ کردار میٹا کی سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ کی کوششوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اپنے دور میں واشنگٹن کے طاقتور حلقوں اور ڈیموکریٹک پارٹی سے قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو قانون سازوں اور ریگولیٹرز کی جانچ پڑتال سے نمٹنے میں مدد دی تھی۔
مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نےعربی زبان میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا ماڈل لانچ کردیا
واضح رہے کہ دینا پاول میک کارمک نے دسمبر میں میٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے استعفیٰ دیا تھا، جو بورڈ میں شمولیت کے محض 8 ماہ بعد سامنے آیا۔
میٹا اس وقت سلیکون ویلی میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں، خاص طور پر اس کے لاما 4 ماڈل کو خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد، اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
کمپنی نے 2025 کے لیے 72 ارب ڈالر تک کے سرمائے کے اخراجات کا اعلان کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیک اوور سائٹ پروجیکٹ دینا پاول میک کارمک ڈیموکریٹک پارٹی مارک زکربرگ میٹا نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیموکریٹک پارٹی میٹا نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر مصنوعی ذہانت مزید پڑھیں کمپنی کی ٹرمپ کی میٹا نے کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز