مقبوضہ کشمیر میں مسلم طلبہ کا مستقبل خطرے میں؟ میڈیکل داخلے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سرینگر: بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں میڈیکل تعلیم سے متعلق ایک فیصلے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں میرٹ پر منتخب ہونے والے مسلم طلبہ کو ایم بی بی ایس پروگرام میں داخلہ نہ ملنے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں مذہبی تعصب کی بنیاد پر مسلم طلبہ کو میڈیکل تعلیم سے محروم کیا گیا۔ ان کے مطابق میڈیکل انٹری امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو داخلے نہیں دیے گئے، حالانکہ وہ میرٹ پر منتخب ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ کے بیان کے مطابق مجموعی طور پر 50 میں سے 42 نشستوں پر مسلم طلبہ میرٹ پر منتخب ہوئے، تاہم بعد ازاں متعلقہ یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس پروگرام ہی منسوخ کر دیا گیا۔ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے مذہبی بنیادوں پر امتیازی رویہ کارفرما ہے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں میڈیکل پروگرام کو سہولیات کی کمی کا جواز بنا کر ختم کیا گیا، تاہم فیکلٹی ارکان اور طلبہ کا مؤقف ہے کہ پروگرام جاری رکھنے کے لیے ضروری سہولیات پہلے سے موجود تھیں۔
ادھر بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق میڈیکل پروگرام کی منسوخی پر بعض ہندو انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے خوشی کا اظہار بھی کیا گیا، جس کے بعد اس معاملے پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے مقبوضہ کشمیر میں اقلیتی طلبہ کے تعلیمی حقوق اور مساوی مواقع سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اس پر شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :