City 42:
2026-07-24@03:39:16 GMT

سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی  لکڑی کی قیمتیں بےقابو

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

سٹی42: ملک میں سردی کی شدت میں اضافہ اور گیس کی قلت کے باعث شہریوں نے کھانا پکانے اور آگ سینکنے کے لیے لکڑی پر انحصار بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں لکڑی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

شہریوں نے لکڑی کے ٹالوں کا رخ کر لیا ہے، جہاں وہ کھانا پکانے اور آگ جلانے کے لیے لکڑی خرید رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث لکڑی کی قیمت فی من 2000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا

دوسری جانب سوئی ناردرن گیس کمپنی میں نیو کنکشن کے لیے میٹریل کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے۔ صارفین نے کروڑوں روپے کے ڈیمانڈ نوٹسز کی ادائیگی کے باوجود بھی کنکشن حاصل نہیں کر سکے۔ لاہور ریجن میں صارفین نے ایل این جی کے بنیاد پر 42 ہزار ڈیمانڈ نوٹس جمع کروائے، جن میں 10 ہزار نوٹس لاہور ریجنز میں ہیں، مگر میٹریل کی کمی کی وجہ سے کنکشن نہیں دیے جا سکے۔

صارفین نے کروڑوں روپے جمع کروا دیے، مگر انہیں مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ایل این جی کی بنیاد پر گیس کنکشن دینے کی منظوری دی تھی، تاہم منظوری کے بعد بھاری بھرکم سکیورٹی کے ساتھ ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے گئے۔

سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے