پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 16 جنوری سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
مزید پڑھیںپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد کرایوں میں بھی کمی کا اعلان
سالِ نو پر پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان، صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، نوٹی فکیشن جاری
مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے ورکنگ مکمل کرلی۔ اوگرا قیمتوں میں ردوبدل کے لیے 14 جنوری کو پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ سے مشاورت کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت پیسے فی لیٹر کمی کا امکان کی قیمت میں امکان ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔