افغانستان میں سچ بولنا جرم بن گیا، خاتون صحافی نذیرہ رشیدی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کابل(نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت آزادیٔ صحافت کی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
دی افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ نذیرہ رشیدی کو منگل 6 جنوری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ صحافی گزشتہ چار دنوں سے طالبان کی تحویل میں ہیں، تاہم ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کے مطابق نذیرہ رشیدی کو کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے۔ تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون صحافی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور گرفتاری کی وجوہات واضح کی جائیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے تحت خواتین صحافیوں کو شدید پابندیوں، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 93 فیصد خواتین صحافی خوف اور دباؤ کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ 55 فیصد خواتین صحافیوں کو براہِ راست دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 32 فیصد سے زائد افغان خواتین صحافی سیکیورٹی خدشات اور پابندیوں کے باعث خفیہ طور پر آن لائن یا پرنٹ میڈیا میں کام کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) پہلے ہی افغانستان میں آزادیٔ صحافت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 175ویں نمبر پر آ چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2024 کے دوران افغانستان میں 12 میڈیا ادارے بند ہوئے جبکہ خواتین صحافیوں کی 80 فیصد نوکریاں ختم ہو گئیں۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور عالمی برادری کی خاموشی کے باعث افغانستان میں آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغانستان میں خواتین صحافی کے مطابق
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔