گیمبیا کے وزیرِ خارجہ داودا جالو نے اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو بتایا ہے کہ میانمار نے ’نسل کش پالیسیوں‘ کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کی۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں 2019 میں دائر کیے گئے ایک تاریخی مقدمے کی سماعت جاری ہے، جو مسلم اکثریتی مغربی افریقی ملک گیمبیا نے دائر کیا تھا۔

اس مقدمے میں میانمار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے دانستہ طور پر اپنی اقلیتی مسلم آبادی، روہنگیا، کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ میانمار ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

داودا جالو نے کہا کہ گیمبیا نے ’قابلِ اعتبار رپورٹس‘ کا جائزہ لیا ہے جن میں ایک نہایت کمزور گروہ کے خلاف انتہائی سفاک اور وحشیانہ مظالم کی تفصیلات موجود ہیں۔

2017 میں میانمار کی فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ 7 لاکھ سے زائد افراد جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہو گئے۔

???????? The United Nations' top court will begin hearing a landmark genocide case against Myanmar on Monday.

Gambia brought the case against the Southeast Asian country, accusing it of genocide of its Muslim Rohingya minority in the western Rakhine region in 2017 ???? pic.twitter.com/jtHVmhAwIu

— FRANCE 24 English (@France24_en) January 12, 2026

پیر کے روز عدالت سے خطاب کرتے ہوئے جالو نے کہا کہ روہنگیا دہائیوں سے شدید مظالم اور برسوں پر محیط غیر انسانی پروپیگنڈے کا شکار رہے، جس کے بعد فوجی کریک ڈاؤن ہوا اور ’مسلسل نسل کش پالیسیاں‘ اپنائی گئیں جن کا مقصد میانمار میں روہنگیا کے وجود کو مٹانا تھا۔

2018 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میانمار کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف ریاست راکھائن میں نسل کشی اور دیگر علاقوں میں انسانیت کے خلاف جرائم پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تاہم میانمار نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی کارروائیاں شدت پسند اور باغی خطرات کے خلاف تھیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب میں اہم پیشرفت: روہنگیا مسلمانوں کا دیرینہ قانونی مسئلہ حل

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی سماعت کے دوران میانمار کو بھی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ سماعتیں مہینے کے آخر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عدالت نے 3 روز گواہوں کے بیانات کے لیے بھی مختص کیے ہیں، جن میں زندہ بچ جانے والے روہنگیا افراد شامل ہوں گے، تاہم یہ سیشنز عوام اور میڈیا کے لیے بند ہوں گے۔

حتمی فیصلہ کئی ماہ، بلکہ ممکنہ طور پر کئی سال بعد متوقع ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف افراد پر نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلا سکتی، لیکن اس کے فیصلے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

داودا جالو نے کہا کہ گیمبیا نے یہ مقدمہ اپنی فوجی آمریت کے تجربے کے باعث ’ذمہ داری کے احساس‘ کے تحت دائر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے میانمار مظالم اور استثنیٰ کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنسا ہوا ہے، جس کا حوالہ انہوں نے 2021 میں فوجی بغاوت کے ذریعے سویلین حکومت کے تختہ الٹنے کی طرف دیا۔

میانمار کی سابق رہنما آنگ سان سوچی، جنہیں بغاوت کے بعد معزول کر کے قید کر دیا گیا، روہنگیا کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر فوج کے دفاع کے باعث انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کھو بیٹھیں۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں ہی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے اور گنجان آباد کیمپوں میں شمار ہوتے ہیں۔

دیگر روہنگیا جان پر کھیل کر سمندری راستوں سے ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مقدمہ دیگر نسل کشی کے مقدمات کے لیے بھی نظیر بننے کی توقع ہے، جن میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف دائر کیا گیا کیس بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کو سمندر برد کرنے پر اقوام متحدہ کی بھارت سے جواب طلبی

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی سماعت کے دوران میانمار کو بھی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ سماعتیں مہینے کے آخر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عدالت نے 3 دن گواہوں کے بیانات کے لیے بھی مختص کیے ہیں، جن میں روہنگیا زندہ بچ جانے والے افراد شامل ہوں گے، تاہم یہ سیشنز عوام اور میڈیا کے لیے بند ہوں گے۔

حتمی فیصلہ کئی ماہ، بلکہ ممکنہ طور پر کئی سال بعد متوقع ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف افراد پر نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلا سکتی، لیکن اس کے فیصلے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت کیجانب سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

یہ مقدمہ دیگر نسل کشی کے مقدمات کے لیے بھی نظیر بننے کی توقع ہے، جن میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف دائر کیا گیا کیس بھی شامل ہے۔

یہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد سنا جانے والا پہلا ایسا مقدمہ ہے اور اسے نسل کشی کی تعریف سے متعلق قوانین کو مزید واضح کرنے کا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی حقوق بغاوت بنگلہ دیش بین الاقوامی فوجداری عدالت روہنگیا عدالت انصاف علمبردار گیمبیا میانمار نسل کشی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بغاوت بنگلہ دیش بین الاقوامی فوجداری عدالت روہنگیا عدالت انصاف گیمبیا میانمار بین الاقوامی عدالت روہنگیا مسلمانوں مزید پڑھیں کی توقع ہے کے لیے بھی دائر کیا جالو نے کے خلاف ہوں گے

پڑھیں:

افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 

کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے  ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم