پاکستان اور چین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کے ہمہ جہت فریم ورک اور فعال سہولت کاری کے باعث پاکستان کی طویل المدتی معاشی منصوبوں کی مؤثر اور پائیدار تکمیل کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
ڈائریکٹر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کنوینر سی پیک و امورچین کے مطابق سی پیک فیز 2 سے متعلق اسٹریٹجک اور اکنامک ڈائیلاگ کا چھٹا دور بیجنگ میں منعقد ہوا۔
پاکستان اور چین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، این او سی اور دیگر قانونی تقاضوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ انہی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے ایک اہم انیشیٹو لیا اوراسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل قائم کیا گیا۔
سی پیک فیز1 کے دوران شاہراہوں، موٹرویز، قراقرم ہائی وے کی بہتری، گوادر بندرگاہ اور بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان ابتدائی منصوبوں سے بجلی کی قلت میں نمایاں کمی آئی، صنعتی سرگرمیوں کو استحکام ملا اور ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
سی پیک فیز 2 میں تعمیرات کے بجائے صنعتی ترقی، تجارت، زراعت کی جدید کاری، ٹیکنالوجی تعاون اور عوامی روابط کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ایس آئی ایف سی کی جامع سہولت کاری سے سی پیک فیز 2 کے خصوصی اقتصادی زونز میں مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور قدر افزا صنعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
گوادر فیز 2میں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ صنعتی، لاجسٹکس اور شہری ترقی کے منصوبوں کے ذریعے علاقائی تجارت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سی پیک فیز 2 میں پاکستان کے درخشاں معاشی اور صنعتی عروج کے لیے اپنا فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی پیک فیز 2
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔