ایران پر ممکنہ حملہ، پینٹاگون نے متعدد آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھ دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے امریکی صدر کے سامنے ایران کے خلاف مختلف آپشنز پیش کیے ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر ممکنہ حملے کے ساتھ ساتھ سائبر حملے اور ملک کے اندرونی سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔
امریکی اخبار نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے حملے چند دنوں کے اندر ممکن ہیں۔ صدر ٹرمپ کو منگل کے روز ان آپشنز پر بریفنگ دی جائے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرحد کے نزدیک امریکی بمبار طیاروں کی پروازیں جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ فضائی حملے متعدد آپشنز میں سے ایک ہیں، لیکن صدر کے لیے سفارتکاری ہمیشہ اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی عوامی تقریریں اور انتظامیہ کو نجی طور پر ملنے والے پیغامات کافی مختلف ہیں، اور صدر اس معاملے کو دریافت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکام کو اس حوالے سے یقین ہے کہ امریکی صدر ایران پر حملے کی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی فورسز بھی کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر ہیں۔
خیال رہے صدر ٹرمپ نے اتوار کی رات کہا تھا کہ ایران نے ان کی ریڈ لائن عبور کر دی ہے۔ انہوں نے مظاہرین پر مہلک طاقت کے استعمال کی صورت میں کہا تھا کہ وہ ان کی مدد کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، امریکہ ان پر 25 فیصد ٹیریف عائد کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر