پی آئی اے نے حج2026ء پرائیویٹ سیکٹر کے کرایوں کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
عمران اسلم:پی آئی اے نے حج 2026 کے لیے کرایوں کا اعلان کر دیا ہے اور حجاج کے لیے سامان اور ادائیگی کے قواعد بھی جاری کر دیے ہیں۔
حجاج کو امریکی ڈالر کے مساوی پاکستانی روپوں میں ادائیگی کرنا ہوگی۔ ایگزیکٹو کلاس کے مسافروں کو 46 کلو بیگ اور 7 کلو ہینڈ کیری کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ اکانومی کلاس کے حجاج 40 کلو بیگ اور 7 کلو ہینڈ کیری ساتھ لے جا سکتے ہیں۔
کم از کم 40 روزہ حج کے لیے کراچی سے جدہ کا کرایہ بغیر ٹیکس 750 ڈالر ہے، جبکہ لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے جدہ-مدینہ کے لیے کرایہ 800 ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری کیٹگری میں کراچی سے جدہ-مدینہ کا کرایہ 950 ڈالر، لاہور سے 1000 ڈالر (پیک سیزن) اور آخری فلائٹس کے لیے 1150 ڈالر رکھا گیا ہے۔ لاہور، اسلام آباد، ملتان اور پشاور سے جدہ-مدینہ کا کرایہ 1200 ڈالر بغیر ٹیکس ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
پی آئی اے کے مطابق حج 2026 کے لیے بکنگ 10 فیصد ایڈوانس نان ریفنڈ ایبل کے ساتھ کروائی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔