حکومت کیساتھ ہمارے اعتماد کا یہ حال ہے کہ بغیر دستخط کے آرڈیننس جاری کرتے ہیں: آغا رفیع اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللّٰہ نے کہا ہے کہ اس وقت حکومت کے ساتھ ہمارے اعتماد کا یہ حال ہے کہ بغیر دستخط کے آرڈیننس جاری کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے طریقہ واردات کا بھی پتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو سکھر حیدرآباد سمیت پورے ملک کے منصوبوں پر وفاقی وزیر یہاں آکر بیان دیں۔
ایوان میں مالی واجبات کی خلاف ورزی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیشپیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان میں مالی واجبات کی خلاف ورزی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا، نوٹس قومی تزویراتی منصوبوں سے وسائل کی منتقلی کےذریعے 467 ارب روپے سے متعلق ہے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللّٰہ نے کہا ہے کہ محنت مزدوری کے لیے باہر جانے والوں کو آف لوڈ کرنے پر تشویش ہے،51 ہزار بھکاریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی بات درست نہیں۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اس فلور پر بڑی باتیں کی گئیں مگر حقائق مختلف ہیں، اس منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی میں 465 ارب روپے پیش کیے گئے، یہ منصوبہ ایکنک میں جانے کے لیے کیوں سفارش کیا گیا؟
وزیر مملکت ارمغان سبحانی نے کہا کہ ایک آنہ بھی پی ایس ڈی پی کا اس منصوبے میں خرچ نہیں کیا گیا، یہ پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے، یہ سی ڈی پی ڈبلیو میں ایکنک کے لیے سفارش کیا گیا۔ ہاؤس میں بیٹھی تمام جماعتیں اقتدار میں رہی ہیں، انشاء اللّٰہ کراچی، حیدرآباد، سکھر موٹر وے بنے گی۔
اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مجھے یہ پتہ ہے کہ سکھر سے حیدرآباد والے منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں، میرے سامنے وہ اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔
ملٹری کورٹس میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا تھا: اسد قیصراس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا تھا، اس بل کا پتہ نہیں چل رہا کہ کدھر گیا ہے۔
نور عالم نے کہا کہ نادرا کی طرف سے میرا شناختی کارڈ معطل نہیں منسوخ کر دیا گیا، ایس این جی پی ایل نے میرے بارے میں خط لکھ دیا انہوں نے میرا کارڈ منسوخ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باعث کریڈٹ کارڈ بلاک اور اکاؤنٹس منجمند کر دیے گئے، جس گھر کا میٹر تھا وہ گھر میری ملکیت ہی نہیں تھا۔
جس پر اسپیکر نے نور عالم کو ہدایت کی کہ مجھے لکھ کر دیں اس پر میں بات کرتا ہوں۔
درختوں کے کاٹنے پر بے جا تنقید کی گئی: طلال چوہدریوفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ ملتان کی 5 سال پہلے کی وڈیوز سینئر ترین صحافیوں نے لگائیں اور کہا کہ اسلام آباد میں گرینری کم ہو رہی ہے، یہ معاملہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے، اس بارے میں جو بولے گا اس کا مائیک بند کر دیا جائے گا۔
طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اس طرح کی چیزوں پر زیرو ٹالرنس ہے، مروت صاحب نے این سی سی آئی اے کی نشاندہی کی تھی اس پر انکوائریاں ہوئیں، اس ملک میں کال سینیٹر بنائے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں، اس طرح کے سینٹرز کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ درختوں کے کاٹنے پر بے جا تنقید کی گئی، پولن الرجی کا سبب بننے والے درختوں کی کٹائی کی گئی، سپریم کورٹ نے جنگلات کے ماہرین پر ایک کمیٹی بنائی، کئی اقسام کے 40 ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری مہم کے دوران مزید 60 ہزار درخت لگائے جائیں گے، انفرااسٹرکچر اور تعمیر نو کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں، جو فیصلے ہوئے ہیں کسی ایک افسر نے نہیں کیے، پالیسی کے تحت ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایوان میں نے کہا کہ انہوں نے رفیع الل کر دیا کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔