بانی سے ملاقاتوں کو بحال کیا جائے: پی ٹی آئی اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی، قرارداد میں بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی اسیران کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بے بنیاد اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں، بانی کے خاندان کے افراد کے تعلقات اور ملاقاتوں کو بحال کیا جائے، بانی کی سیاسی ملاقاتوں اور رابطوں کو جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
قرارداد کے مطابق سیاسی اسیران کے ساتھ انصاف اور قانونی برابری کو یقینی بنایا جائے۔
پارلیمانی پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے دورۂ لاہور کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا اور حکومتِ پنجاب کے کارکنان پر لاٹھی چارج، رکاوٹیں اور پولیس کی غنڈہ گردی کی مذمت کی گئی جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے دورۂ کراچی پر انہیں اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی گئی۔
قرارداد میں سندھ حکومت کی جانب سے دورے کے دوران رکاوٹیں ڈالنے کی مذمت کی گئی۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بلائے گئے امن جرگے کے اعلامیے کو من و عن تسلیم کیا جائے اور اس اعلامیے پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
قرارداد میں عمر ایوب، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، لطیف چترالی، احمد چھٹہ، بلال اعجاز احسان ورک، رانا فراز نون، رائے حیدر علی، رائے حسن نواز اور جمشید دستی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک اس وقت ایک نہایت نازک اور پیچیدہ سیاسی دور سے گزر رہا ہے، جمہوری قوتوں سے مطالبہ ہے کہ ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا جائے، الیکشن کمیشن کی ایسی تشکیلِ نو ہو جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔
پی ٹی آئی نے قرارداد میں شفاف، آزاد و منصفانہ نئے انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کیا جائے گیا ہے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔