حکومت کا کرپٹو اور ورچوئل اثاثہ جات ضابطے میں لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت نے ملک میں کرپٹو اور ورچوئل اثاثہ جات کو ضابطے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت اس شعبے کو ایک منظم، باقاعدہ اور ضابطہ شدہ فریم ورک کے تحت لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جدت، سرمایہ کاری اور مالی شمولیت کو فروغ دے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ بات انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں آئی کوائن ٹیکنالوجی انکارپوریٹڈ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وفد کی قیادت کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیٹ سلویسٹری کر رہے تھے جب کہ وفد میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ٹیری روبلنگ، محمود اظہر جبار اور طارق حفیظ ملک بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران ڈیجیٹل اثاثہ جات، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ممکنہ ریگولیٹری ڈھانچے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات کے لیے ایک ذمہ دارانہ اور شفاف نظام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام میں ہونے والی پیش رفت، پالیسی اقدامات کی ترتیب اور مجوزہ فریم ورک کے ممکنہ اثرات سے متعلق تفصیلات شیئر کیں اور بتایا کہ یہ اقدامات مارکیٹ کی منظم ترقی، مالی شمولیت، شفافیت اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنیں گے۔
محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ضابطہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ اس شعبے میں موجود مواقع اور ممکنہ خطرات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ پالیسی فریم ورک مارکیٹ کے شرکا کو واضح رہنمائی فراہم کرے گا، عالمی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہوگا اور اسٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ ریگولیٹرز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا۔
اس موقع پر آئی کوائن ٹیکنالوجی کے چیئرمین چیٹ سلویسٹری نے امریکا اور کینیڈا کی منڈیوں میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے تجربات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریگولیٹری وضاحت کے بعد کس طرح ترقی یافتہ ممالک میں روایتی مالیاتی ادارے موجودہ بینکاری نظام کے اندر رہتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوئے۔ وفد نے والٹ پر مبنی مڈل ویئر اور جدید سوئچنگ ٹیکنالوجیز کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ملاقات میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور اسٹیبل کوائنز کی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا جو مالیاتی نظام کو جدید بنانے، تیز رفتار اور کم لاگت لین دین، شفافیت اور ریگولیٹری نگرانی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
وفد نے پاکستان میں نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس سرگرمی کو ضابطہ شدہ انداز میں بینکاری نظام کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تو اسے رسمی معیشت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے رابطے برقرار رکھنے اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل اثاثہ جات کے انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔