ججز کے خلاف غیرمناسب پوسٹیں لگانے والوں کی لسٹ بنانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ نے ججز کے خلاف غیر مناسب پوسٹیں لگانے والوں کی لسٹ بنانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے ایڈووکیٹ پرویز الہٰی کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو ججز کے خلاف غیر مناسب مواد فوری ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ڈی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ معطل کرنے کے حکم کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو این سی سی آئی اے کی معاونت کی ہدایت کی ہے۔
عدالت میں ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ ان کے علم میں آج یہ معاملہ آیا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں؟ ججز کے خلاف مہم کے پیچھے کون ہے؟ یہ پتا لگوائیں؟
جج نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کے ادارے کو ٹارگٹ کرنا سائبر دہشت گردی ہے، اب کوئی پوسٹ نظر آئی تو ڈی جی این سی سی آئی اے ذمے دار ہوں گے، معاملے کو ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے ججز کے خلاف ہائی کورٹ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔