بوڑھا ڈاکو جیل سے فرار، چوری کی واردات کرتے پھر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بھارتی ریاست راجستھان کے عادی ڈکیت نے دوبارہ قانون کو چیلنج کر دیا۔ جیل سے فرار ہونے کے بعد برکت خان المعروف بابو نے مقامی مندر پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن پولیس کی بروقت کارروائی نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
گزشتہ 40 سال سے مسلسل وارداتوں میں ملوث اس مجرم کی دوبارہ گرفتاری نے علاقے میں خوف اور سنسنی پیدا کر دی ہے۔ 68 سالہ برکت خان ایک ڈاکو ہے اور اس کے خلاف پہلا مقدمہ 1984 میں درج ہوا تھا۔ اب وہ اپنی پرانی رہائش یعنی جیل کی طرف واپس جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوری کا انوکھا واقعہ: واردات کے دوران چور ایگزاسٹ فین کے سوراخ میں پھنس گیا
مقامی مندر جو شہر گڑھ کے قریب ہے پچھلے مہینے دو بار ڈاکے کا شکار ہوا۔ اس بار چور نے مندر کے سیف سے 25,000 روپے نقد، ایک مائیکروفون سیٹ، ایک ایل ای ڈی ٹی وی اور ایک چاندی کا پردہ چرا لیا۔ گاؤں کے لوگ رات بھر جاگتے رہنے لگے کہ چور کون ہے۔
ایک رات کی گشت کے دوران پولیس نے برکت خان کو مندر کے احاطے میں گھومتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے بابو سے کچھ چوری شدہ سامان برآمد کر لیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کتاب اور گلاب چرانے کو کبھی چوری نہیں سمجھا‘، وزیر تعلیم سندھ کا دلچسپ انکشاف
اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے مطابق ملزم بابو ایک عادی مجرم ہے۔ وہ جیل میں دس سال سے زیادہ وقت گزار چکا ہے اور حال ہی میں اجمیر جیل سے فرار ہو گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چور گرفتار چوری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چور گرفتار چوری
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک