میرپورخاص،پٹڑیوں کے نٹ بولٹ اور پلیٹیں چوری ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-11-14
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپورخاص سے کراچی جانے والی ریلوے پٹڑیوں کے نٹ بولٹ اور پلیٹیں چوری ہونے کا انکشاف ، حادثے کی صورت ہزاروں مسافروں کی جان کو خطرے کا اندیشہ ،اسسٹنٹ ریلوے انجینئر سے مؤقف معلوم کرنے پر موصوف بدتمیزی پر اتر آئے۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص سے حیدرآباد کراچی جانے والے ٹریک جونیجو کواٹر کے عقب میں موجود ریلوے پٹڑیوں کے نٹ بولٹ اور پلیٹیں نامعلوم چور چوری کرکے لے گئے جونیجو کوارٹر میں رہائش پذیر بکری چرانے والے بچوں کی نشاندہی پر ایک سماجی ورکر نے سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل کردی جس پر صحافیوں کی ایک ٹیم نے مذکورہ جگہ پر جا کر اس کی ویڈیو بنائی اور اس حوالے سے ریلوے کے اسسٹنٹ انجینئر شاہد سے مؤقف جاننے کی کوشش کی رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ انجینئر شاہد کا کہنا تھا کہ میں میرپورخاص سے تعلق نہیں رکھتا نہ مجھے جونیجو کوارٹر کا پتا ہے اور تمھیں بڑی پریشانی ہے نٹ بولٹ نہ ہونے کی جس پر انہیں بتایا گیا کہ محترم اللہ نہ کرے کوئی حادثہ پیش نہ آجائے تو ان کا کہنا تھا کہ جاؤ مجھے پھانسی پر چڑا دو اور فون بند کردیا۔ واضح رہے کہ میرپورخاص سے حیدرآباد اور کراچی کے لیے روزانہ 6اپ ڈائون ٹرین چلتی ہیں جس میں ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں شہریوں نے وزیر ریلوے حنیف عباسی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میرپورخاص سے نٹ بولٹ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔