سوتیلے بیٹوں سنی اور بوبی دیول سے اختلافات کی خبروں پر ہیما مالنی کا ایک بار پھر تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیما مالنی نے اپنے مرحوم شوہر دھرمیندر کے انتقال کے چند ہفتوں بعد دیول خاندان کے ساتھ مبینہ اختلافات کی خبروں پر ایک بار پھر وضاحت پیش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر کے ساتھ فلم شعلے میں گزرے یادگار لمحات یاد کر کے امیتابھ بچن آبدیدہ
ایک حالیہ انٹرویو میں ہیما مالنی نے کہا ہے کہ ان کے اور دھرمیندر کے بیٹوں سنی دیول اور بوبی دیول کے درمیان تعلقات خوشگوار اور خوش اسلوبی پر مبنی ہیں۔
انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے 77 سالہ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ان کے خاندانی تعلقات کو متنازع کیوں بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان تعلقات بہت اچھے اور دوستانہ ہیں مگر لوگ بلاوجہ سنسنی اور گپ شپ کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہیما مالنی نے کہا کہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں وضاحت دینا ضروری نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری ذاتی زندگی ہے ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور خوش ہیں۔
اداکارہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقے دوسروں کے غم کو سنسنی خیز خبروں کے لیے استعمال کرتے ہیں اسی لیے وہ اکثر ایسی خبروں پر خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
مزید پڑھیے: دھرمیندر کا آخری پیغام، سنی دیول نے والد کی جذباتی ویڈیو شیئر کردی
ہیما مالنی نے دھرمیندر کے فلمی ورثے کے حوالے سے بھی بات کی اور تصدیق کی کہ سنی دیول اپنے والد کی یاد میں ایک میوزیم قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہیما مالنی اور سنی و بوبی دیول کے درمیان اختلافات کی خبریں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں تاہم دھرمیندر کے انتقال کے بعد یہ افواہیں ایک بار پھر گردش کرنے لگیں۔ ان خبروں کو اس وقت مزید ہوا ملی جب ہیما مالنی نے اپنے گھر میں الگ سے گیتا پاٹھ کا اہتمام کیا جبکہ سنی اور بوبی دیول نے اسی روز اپنے والد کے لیے دعائیہ تقریب منعقد کی۔
مزید پڑھیں: دھرمیندر نے 5 کروڑ مالیت کی آبائی جائیداد بھتیجوں کے نام کیوں کی؟
یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہیما مالنی نے سنہ 1980 میں دھرمیندر سے شادی کی تھی۔ اس وقت دھرمیندر کی پہلی اہلیہ پرکاش کور اور دھرمیندر کے سنی اور بوبی دیول 4 بچے تھے جن میں بھی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بوبی دیول دھرمنیدر سنی دیول ہیما مالنی ہیما مالنی کی سوتیلی اولاد ہیما مالنی کے سوتیلے بیٹے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بوبی دیول سنی دیول ہیما مالنی اور بوبی دیول ہیما مالنی نے دھرمیندر کے سنی دیول سنی اور
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز