لاہور:

پنجاب کی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو پشاور میں ہونے والے ہنگاموں میں وزیر اعلیٰ کے پی کی فوٹیج سامنے آئی ہے جو پنجاب فرانزک سے تصدیق شدہ ہے، ان کو جھوٹ بولنے اور اپنے گناہوں کو نہ ماننے کی بیماری ہے۔

لاہور ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے بھی کچھ پوسٹیں اپنے سوشل میڈیا پر لگائی تھیں لیکن بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور سہیل آفریدی کی فوٹیج جو ان کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تھیں ان کا مکمل تجزیہ کیا گیا ہے۔ مراد سعید کی فوٹیج بھی ریکارڈ پر ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں آپ کو جگہیں بتا دی گئی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ابھی یہ کہتے ہیں 9 مئی کو فالس آپریشن تھا، ان کے لیے بے شمار ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔ پشاور میں ریڈیو اسٹیشن کے پاس کور کمانڈر ہاؤس ہے جب ان کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ملی تو انہوں نے ریڈیو اسٹیشن کو آگ لگا دی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے پی کراچی کے دورے پر ہیں جن کا کام صرف انارکی پھیلانا، بدتمیزی کرنا اور میڈیا پر حملہ کرنا ہے۔ سی ایم کے پی کے مزار قائد بھی گئے اور مجھے یقین ہے انہوں نے قائد کے مزار پر معافی مانگی ہوگی کہ کس طرح انہوں نے جناح ہاؤس پر جلاو گھیراو کیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کل میں نے ایک فوٹیج دیکھی جس میں ایک بچے کو گود میں بٹھا کر ایک فوٹیج جاری کی گئی اور اس پر بڑے فخر سے بتا رہے ہیں کہ یہ بچہ خیبر پختونخوا سے یہاں کمانے آیا ہے۔ ان کو شرم نہیں آتی کہ ایک بچہ ان کے صوبے کا چائلڈ لیبر پر مجبور ہے اور روزگار بھی اسے اپنے صوبے میں نہیں ملا۔



پشاور 9 مئی واقعات؛ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی



9 مئی کیسز: ریڈیو پاکستان کیس میں پولیس کو نئے شواہد مل گئے

انہوں نے کہا کہ انہیں جلسہ کرنے کا شوق تھا اور جب جلسے کے لیے جگہ دی گئی تو وہاں کے بجائے سڑکوں پر لوگوں تنگ کر کے نکلنے کی ضد کی گئی۔ فساد گروپ کی ہمیشہ سے کوشش رہتی ہے کہ ملک میں حالات خراب کیے جائیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کو پیسے بھی سیدھے طریقے سے لوگ نہ بھیجے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک مہاتما کہتے تھے کہ ان کی پارٹی کے لوگ دہشت گردی میں ملوث ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ایک فرانزک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں ریڈیو پشاور پر حملہ کرنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ کے پی والے کہہ رہے ہیں کہ فرانزک رپورٹ لاہور کیوں بھجوائی، بھائی آپ 13 سال سے کے پی میں ہیں تو بنا لیتے۔

انہوں نے کہا کہ کیا کوئی نئی سازش پلان ہو رہی ہے، ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا تھا اور اس کی قیمت ادا کی، تمھارا پاکستان اور ہمارا پاکستان کا مطلب کیا ہے۔ ریاست کو اپنے سامنے جھکانے اور قانون کو باندھی بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب کے اندر مقدمات میں سزائیں ہو چکی ہیں، ہم رانا ثناء اللہ کی طرح فیک ہیروئن ڈال کر سزائیں موت نہیں دینا چاہتے۔ مریم نواز کو کہا گیا تھا کہ بی کلاس لے سکتی ہیں لیکن انھوں نے نہیں لی، جب انقلاب نکلتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے ڈنڈے مارو گے تو میں نہیں نکلوں گا، ان کو کھلی چھوٹ اب تک ملی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ملک میں اچھے کام ہوئے ہیں چاہے وہ ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کے کام ہوں یا ترقیاتی کام ہوں وہ ایک ہی پولیٹیکل پارٹی کے دور میں ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب ایک سیاستدان کو اس ملک نے بہت عزت دی لیکن اس کی کارکردگی کو دیکھیں تو سوائے بھنگ کی کاشت اور انڈے کٹے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہر نیا سال پاکستان کے لیے اچھی خوشخبریاں اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے، انٹرنیشنل ریٹنگز اکانومی کے حوالے سے ہوں یا کسی اور سے متعلق پوری دنیا میں مانا جارہا ہے۔ اوورسیز کی طرف سے ریکارڈ پیسے پاکستان بھیجے گئے ہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ بخاری نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش