عوام کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی ترجیح ہے: مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی ترجیح ہے، ہمیں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں ڈبلیو ایچ کی جانب سے گاڑیوں کی حوالگی کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کئیر سسٹم بہت سے مسائل کا شکار ہے، صحت کے شعبے پر دباؤ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں، ہمیں نکاسی آب کے نظام سے لے کر صفائی کے دیگر امور کا مکمل خیال رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگوانا ضروری ہے، علاج معالجے سے زیادہ بہتر لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، انسداد پولیو پروگرام پولیو کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال اور صحت کی سہولتیں دینا پھر مریضوں کا انتظار کرنا ہمارا وژن نہیں، ہمارا مشن ہے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچائیں، ایک وقت میں بہت زیادہ لوگ بیمار پڑنے لگیں تو ہیلتھ انفرااسٹرکچر بیٹھ جاتا ہے، کورونا اس کی مثال ہے، امریکا جیسا ملک بھی کووڈ کو سنبھال نہیں سکا۔
کراچی وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت.
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہمیں بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ 62 لاکھ بچے ہر سال پیدا ہو رہے ہیں، بچے کی پیدائش سے افزائش تک ہمارا ایکو سسٹم آئیڈیل نہیں ہے، ہمارا ایکو سسٹم، پانی آب و ہوا مریض بنانے کی فیکٹری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ اسپتال جائیں تو لگتا ہے سیاسی جلسہ ہو رہا ہے، مریضوں کا ریلہ ہے جو آ رہا ہے اور جارہا ہے، ایک ڈاکٹر یومیہ 40 مریض دیکھ رہا ہے، لوگ روزانہ فون کرتے ہیں کہ وینٹی لیٹر نہیں مل رہا، یہ نیشنل سیکیورٹی ایشو بن گیا ہے۔
تقریب سے خطاب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی فراہم کردہ گاڑیاں دور دراز علاقوں میں استعمال کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔