جماعت اسلامی کسی بھی انتخابی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کسی بھی انتخابی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنی سیاست آزادانہ بنیادوں پر جاری رکھے گی۔
لاہور میں پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ’’بدل دو نظام‘‘ کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک منظم تحریک کا نام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں اور خواتین کی رہائی ہونی چاہیے کیونکہ سزاؤں سے ملک میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ملک میں سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر جماعت کو جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دینی جماعتیں ہمیشہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی قابلِ اعتماد پشتیبان رہی ہیں اور ان مظلوم اقوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے علما اور قیادت کا ملی یکجہتی کونسل کے 17 نکاتی ضابطۂ اخلاق پر مکمل اتفاق ہے، جو قومی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بدامنی، دہشت گردی اور ہر خونی واردات کے پیچھے امریکا، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی معیشت کے ہولناک مگر دلربا حقائق کی نشاندہی کی ہے، جس سے موجودہ معاشی صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا نے کہا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔