WE News:
2026-06-02@23:54:11 GMT

کشیمر کی ’وادی شکسگام‘ ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

بھارت نے جمعے کے روز مقبوضہ کشمیر کی وادی شکسگام میں چین کی جانب سے جاری بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے ترقیاتی منصوبوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ علاقہ بھارتی سرزمین کا حصہ ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

1963 کے چین پاکستان معاہدے کو بھارت نے غیر قانونی قرار دیا

بھارتی ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ان کے مطابق ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ یہ معاہدہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔

بھارت میں ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے اس علاقے پر اپنے کنٹرول کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شکسگام وادی ہمارا علاقہ ہے، چین کا دوٹوک جواب

بھارتی اعتراضات پر چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ماؤ نِنگ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا آپ جس علاقے کا ذکر کر رہے ہیں، وہ چین کا حصہ ہے۔ اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر چین کا مکمل اور جائز حق ہے۔

چین پاکستان سرحدی معاہدہ خودمختار ممالک کا حق

ماؤ نِنگ نے کہا کہ ’چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک سرحدی معاہدہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا تعین کیا، جو 2 خودمختار ریاستوں کا باہمی حق ہے۔‘

سی پیک کا مقصد ترقی اور عوامی فلاح

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور  عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔

کشمیر پر چین کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں

ماؤ نِنگ نے مزید کہا کہ چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے۔ اس معاملے پر چین کا مؤقف بدستور وہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت چین چینی وزارت خارجہ کشیمر کی وادی شکسگام ماؤننگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت چین چینی وزارت خارجہ کشیمر کی وادی شکسگام چین پاکستان کہا کہ چین کا پر چین

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی