WE News:
2026-07-24@03:29:04 GMT

کشیمر کی ’وادی شکسگام‘ ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

بھارت نے جمعے کے روز مقبوضہ کشمیر کی وادی شکسگام میں چین کی جانب سے جاری بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے ترقیاتی منصوبوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ علاقہ بھارتی سرزمین کا حصہ ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

1963 کے چین پاکستان معاہدے کو بھارت نے غیر قانونی قرار دیا

بھارتی ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ان کے مطابق ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ یہ معاہدہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔

بھارت میں ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے اس علاقے پر اپنے کنٹرول کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شکسگام وادی ہمارا علاقہ ہے، چین کا دوٹوک جواب

بھارتی اعتراضات پر چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ماؤ نِنگ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا آپ جس علاقے کا ذکر کر رہے ہیں، وہ چین کا حصہ ہے۔ اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر چین کا مکمل اور جائز حق ہے۔

چین پاکستان سرحدی معاہدہ خودمختار ممالک کا حق

ماؤ نِنگ نے کہا کہ ’چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک سرحدی معاہدہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا تعین کیا، جو 2 خودمختار ریاستوں کا باہمی حق ہے۔‘

سی پیک کا مقصد ترقی اور عوامی فلاح

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور  عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔

کشمیر پر چین کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں

ماؤ نِنگ نے مزید کہا کہ چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے۔ اس معاملے پر چین کا مؤقف بدستور وہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت چین چینی وزارت خارجہ کشیمر کی وادی شکسگام ماؤننگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت چین چینی وزارت خارجہ کشیمر کی وادی شکسگام چین پاکستان کہا کہ چین کا پر چین

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا