پاکستان کو وینز ویلا کون سمجھ رہا ہے؟ اویسی یا مودی؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
قارئین! کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ جس طرح سے ٹرمپ نے وینز ویلا میں فوجی آپریشن کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے مخالفین کو گرفتار کر کے امریکا میں لا کر بدمعاشی کی بالکل ویسے ہی بھارت کے مودی بھی پاکستان کے خلاف ہیلی کاپٹر کو بھیج کے اپنے مخالفین کو اٹھا کر بھارت لے جائیں اور پھر اس کو سزا دینے کی بات کریں؟
ایسا کوئی پاکستانی تو کیا بھارتی بھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچ سکتا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی بات بھارت کے مشہور رہنما کر رہے ہیں اور وہ کوئی انتہا پسند ہندو جماعت کے لیڈر نہیں بلکہ بھارتی مسلمانوں کی ایک جماعت کے رہنما ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ممبئی حملے کے ملزمان کو پاکستان سے اِسی طرح اٹھوانے کا چیلنج دیا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’مودی جی ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی امریکی صدر ٹرمپ کی طرح پاکستان میں آرمی بھیج کر ممبئی کی سڑکوں پر سازش کرنے والے پاکستانیوں کو اٹھوا لیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینیز ویلا کے منتخب صدر کو اپنی فوج کے ذریعے گرفتار کر کے امریکا لے جا سکتے ہیں تو انڈیا بھی ایسا کر سکتا ہے۔‘‘ اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ اگر ٹرمپ کر سکتا ہے تو کیا آپ کم ہیں؟ ‘‘ اویسی نے صرف اس پر بس نہیں کیا بلکہ امریکا کی وینز ویلا میں کارروائی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی یمن میں کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دیگر ممالک اپنی فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں تو انڈیا کیوں پیچھے رہے؟
ان کے اس بیان پر ایک پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیا ہے کہ ’’ میں چاہوں گا کہ آپ پہلے پاکستان سے ایشیا کپ کی ٹرافی اٹھوائیں، محسن نقوی نے وہ ابھی تک نہیں دی۔‘‘ بہرحال یہ ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ اویسی جیسے رہنما اس قسم کی زبان کیوں بول رہے ہیں اور ماضی میں بھی اس قسم کی باتیں کیوں کرتے رہیں؟ ایک خیال یہ ہے کہ مودی سرکار اپنی خواہشات ان کی زبان سے ظاہر کروا رہی ہے لیکن یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ ماضی قریب میں جس طرح پاکستانی فضائیہ افواج کے ہاتھوں اپنی عزت خراب کروا چکے ہیں، اس کے بعد خود انھیں بھی یقین ہے کہ وہ عملاً پاکستان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت بھارت اچھی طرح جان چکا ہے کہ ان کے آپریشن ’’سندور‘‘ کو پاک فضائیہ نے جلتے ’’ تندور‘‘ میں تبدیل کردیا تھا جس میں ان کے سارے ارمان جل گئے۔
بھارتی مسلمانوں کے رہنما اویسی اس قسم کی گفتگو اکثر کرتے ہیں، اہم سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف زمین اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اب انھیں ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں آرہے ہیں اور اس قدر کھلی بدمعاشی چل رہی ہے کہ مسلمانوں کو اس ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مجبوراً بار بار یہ ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھارت کے بہت بڑے وفادار ہیں، نیز اس بات کا یقین دلانے کے لیے اویسی جیسے لوگ دھواں دھار تقریرکر کے پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں کہ شاید اس طریقے سے انتہا پسندوں کے ظلم و ستم سے کسی حد تک بچ سکیں اور یہ ثابت کر سکیں کہ مسلمان بھارت کے خلاف عزائم یا سوچ نہیں رکھتے لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے اقدامات مسلسل سامنے آرہے ہیں جس پر خود بھارت کی غیر مسلم شخصیات بھی سخت تنقید کرتی آرہی ہیں۔
اویسی جیسے رہنماؤں کے اس قسم کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے وقت جن لوگوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ہندو مسلم مل کر ایک ملک میں سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں اور انھیں مذہبی آزادی بھی میسر آسکتی ہے، ان کا یہ نظریہ قطعی غلط ثابت ہوا۔ آج جو کچھ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے وہ ثابت کر رہا ہے کہ بٹوارے کے وقت جن مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے نظریے کو اپنایا تھا وہ قطعی درست تھا۔
ان کا یہ سمجھنا قطعی درست تھا کہ ہندو کے ساتھ رہتے ہوئے ان کو ان کے مذہبی اور بنیادی حقوق نہیں مل سکتے اور وقت نے ثابت کر دیا کہ ان کا خیال غلط نہیں تھا کانگریس کا ساتھ دینے والے مسلمان رہنما اس دنیا سے چلے گئے اگر وہ آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ مسلمانوں پر زمین کس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ ایک مسلم رہنما کہلوانے والا بھی اپنے آپ کو محب وطن اور بھارت کا وفادار ثابت کرنے کے لیے پاکستان پہ حملہ کرنے کے لیے ایسے احمقانہ بیانات دے رہا ہے جو کوئی بھی ذی شعور انسان نہیں دے سکتا۔ ایسے بیانات تو انتہا پسند ہندو بھی نہیں دے رہے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ٹرمپ کے وینز ویلا کے خلاف اقدامات کو پوری دنیا میں سخت نفرت سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمن صدر فرانک والٹر کہتے ہیں کہ دنیا عالمی نظام کو ایسے ’’ ڈکیتوں کے اڈے ‘‘ میں تبدیل نہ ہونے دے جہاں بے ایمان لوگ جو چاہیں لے لیں۔ عالمی جمہوریت پر ایسا حملہ کیا جا رہا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ دنیا ڈاکوؤں کے اڈے میں تبدیل ہوگئی ہے جہاں سب سے زیادہ بے ایمان لوگ جو چاہیں لے لیتے ہیں، جہاں خطے یا پورے ممالک کو چند بڑی طاقتوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔‘‘
یوں تمام ہی دنیا ٹرمپ کی اس حرکت کو غلط قرار دے رہی ہے مگر بھارت میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مسلمان رہنما اپنے مستقبل سے یقیناً خوف زدہ ہوچکے ہیں تب ہی وہ اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔
ان حالات کی گواہی خود بھارت کے اندر سے بھی آرہی ہے۔ مثلا پرکاش راج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ انڈیا میں بھارتی مسلمانوں کو ختم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تمام لوگ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے، جو کچھ ہورہا ہے وہ دراصل ایک نسل کشی کی تیاری ہے۔ مسلمانوں کو یہ لوگ مٹانا چاہتے ہیں، قبائلی لوگوں کو اور اقلیتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قوانین اور ضابطوں کی بات کرتے ہیں مگر ان کے لیے ایسی کسی چیزکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں اس سے قبل بھی یہ بات کہہ چکا ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ ان کا اصل نام پرکاش رائے ہے اور یہ 26 مارچ 1965 کو کرناٹک، بھارت کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کی خواہش اویسی کی زبان پر آئی ہے تاہم ان حالات میں اویسی جیسے کسی لیڈر کا پاکستان کو وینز ویلا سمجھنے کا بیان تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اگر مودی ایسی کوئی خواہش رکھتے ہیں تو وہ شاید بھول رہے ہیں کہ پاکستان کے حافظ صاحب ابھی کچھ ہی ماہ قبل بھارت کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ پاکستان کے سامنے اس کی اوقات وینز ویلا سے زیادہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے اویسی جیسے پاکستان کے وینز ویلا کرتے ہیں بھارت کے سکتے ہیں اویسی نے یہ ہے کہ رہے ہیں ہیں اور کے خلاف ہے کہ ا ہیں کہ کے لیے کی بات رہا ہے رہی ہے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم