Jasarat News:
2026-07-24@04:08:53 GMT

بلدیاتی کالا قانون اور عوامی ریفرنڈم

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-03-5

 

میر بابر مشتاق

بلدیاتی حکومتوں کے بل پر ہی جمہوریتیں پنپتی ہیں۔ وہ نظامِ حکومت جو اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کرتا، درحقیقت جمہوریت نہیں بلکہ ایک خوش نما آمریت ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں مقامی حکومتیں مضبوط، بااختیار اور جواب دہ رہی ہیں وہاں ریاستی استحکام، شفاف حکمرانی اور عوامی فلاح نے جنم لیا ہے، اور جہاں بلدیاتی نظام کو دانستہ کمزور رکھا گیا وہاں جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی۔ پاکستان میں جمہوریت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی رہی ہے کہ یہاں ایسا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جس میں کوئی بھی طاقتور طبقے کو للکارنے والا نظام ابھر ہی نہ سکے۔ اختیارات کو مرکز اور صوبوں تک محدود رکھ کر عوام کو محض ووٹ ڈالنے کی حد تک شریک کیا گیا، جبکہ اصل فیصلے بند کمروں میں ہوتے رہے۔ اسی سوچ کا ایک بنیادی مظہر پنجاب کا موجودہ بلدیاتی نظام اور خصوصاً پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ہے، جسے بجا طور پر عوامی حلقوں میں ’’بلدیاتی کالا قانون‘‘ کہا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا حسن صرف انتخابی عمل میں نہیں بلکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ حق ہی نہ دیا جائے کہ وہ اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست جواب طلب کر سکیں تو ایسی جمہوریت ایک منظم فریب کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہی ماڈل رائج ہے، جہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں مگر مقامی حکومتوں کو یا تو مسلسل مؤخر کیا جاتا ہے یا پھر ایسے قوانین کے تحت قائم کیا جاتا ہے جو انہیں بے اختیار بنا دیتے ہیں۔

پنجاب میں 2015ء کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونا کسی انتظامی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی فیصلہ ہے۔ صوبائی حکومتیں اقتدار تو حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے کتراتی ہیں، کیونکہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام ان کی اجارہ داری کو چیلنج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں مقامی حکومتوں کے قیام کو یا تو تاخیر کا شکار بنایا گیا یا پھر انہیں بیوروکریسی کے تابع کر دیا گیا۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-اے اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ یہ شق صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ بااختیار مقامی حکومتیں قائم کریں۔ مگر پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء اس آئینی تقاضے کی روح کے منافی ہے۔ اس قانون کے تحت اختیارات عملاً منتخب نمائندوں سے چھین کر بیوروکریسی کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ میئر، چیئرمین اور کونسل کو محض نمائشی حیثیت دے کر اصل اختیار ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری افسران کے پاس رکھا گیا ہے۔ مالی خودمختاری کے بغیر کوئی بھی ادارہ بااختیار نہیں ہو سکتا، اور یہی وہ پہلو ہے جہاں پنجاب کا بلدیاتی قانون سب سے زیادہ عوام دشمن ثابت ہوتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کو اپنے وسائل پر اختیار دینے کے بجائے صوبائی حکومت کا محتاج بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی حکومتیں مسائل حل کرنے کے بجائے فائلوں، اجازت ناموں اور منظوریوں کے چکر میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اصولوں کی صریح نفی بھی ہے۔

جب گلی، محلے، یونین کونسل اور تحصیل کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی صوبائی دارالحکومت کا رُخ کرنا پڑے تو عام آدمی کے لیے ریاست ایک دور افتادہ اور بے حس قوت بن جاتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں بدعنوانی، سفارش، ناانصافی اور بدانتظامی جنم لیتی ہے۔ صاف پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل اگر مقامی سطح پر حل نہ ہوں تو قومی سطح پر بڑے منصوبے بھی عوام کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکتے۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی پاکستان کا کردار نہایت واضح اور نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت رہی ہے جس نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی۔ بلدیاتی نظام کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک رہا ہے کہ مضبوط، بااختیار اور جواب دہ مقامی حکومتیں ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کو غیر جمہوری، عوام دشمن اور آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے درست نشاندہی کی ہے کہ یہ قانون دراصل عوام سے ان کا حق ِ حکمرانی چھیننے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، نہ کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، نہ مسائل کا دیرپا حل نکل سکتا ہے اور نہ ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر محض بیانات اور احتجاجی نعروں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا، پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل سطح پر دھرنے دیے گئے، سیمینارز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے لوگوں کو ان کے آئینی حقوق سے آگاہ کیا گیا۔ یہ جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جماعت اسلامی احتجاجی سیاست نہیں بلکہ اصولی، آئینی اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اسی جدوجہد کا منطقی اور تاریخی تسلسل 15 جنوری 2026ء کو پورے پنجاب میں ہونے والا صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم ہے۔ یہ ریفرنڈم محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے اور جمہوری روایت کو مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جماعت اسلامی پہلی مرتبہ عوام سے براہِ راست یہ سوال کر رہی ہے کہ آیا وہ ایک غیر جمہوری اور بے اختیار بلدیاتی نظام کو قبول کرتے ہیں یا حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام چاہتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فیصلے عموماً بند کمروں میں ہوتے رہے ہیں۔ عوام کو صرف نتائج سے آگاہ کیا جاتا ہے، رائے لینے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی اس روایت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کر رہی ہے۔ یہی جمہوریت کا اصل حسن اور اصل روح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام سے سب سے زیادہ خوف سیاسی اشرافیہ کو ہوتا ہے۔ مضبوط مقامی حکومتیں ایم این اے اور ایم پی اے کی اجارہ داری کو چیلنج کرتی ہیں، ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال پر قدغن لگاتی ہیں اور عوام کو سوال کرنے، احتساب کرنے اور فیصلوں میں شریک ہونے کی طاقت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت کسی نہ کسی بہانے سے بلدیاتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

پندرہ جنوری دو ہزار چھبیس کا عوامی ریفرنڈم پنجاب کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دن اس بات کا اعلان ہو گا کہ اب فیصلے صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ عوام کی رائے سے ہوں گے۔ اگر عوام نے بھرپور شرکت کی تو یہ پیغام واضح ہو گا کہ بلدیاتی کالا قانون ناقابل ِ قبول ہے اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جماعت اسلامی کی یہ جدوجہد کسی ایک قانون کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے، کسی حکومت کی مہربانی نہیں۔ عوامی ریفرنڈم دراصل اسی حق کے حصول کی ایک پْرامن، آئینی اور باوقار کوشش ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان میں جمہوریت واقعی پنپ سکتی ہے۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عوامی ریفرنڈم مقامی حکومتیں بلدیاتی نظام جماعت اسلامی پاکستان میں ا ئینی اور نہیں بلکہ اور عوامی اور عوام ہوتا ہے ہو سکتا عوام کو بلکہ ا ہے اور رہی ہے

پڑھیں:

نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر

ویب ڈیسک : امیر العظیم کے انتقال کے بعد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے نذیر احمد جنجوعہ کو قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر کردیا۔

 نذیر احمد جنجوعہ نے قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کا حلف اٹھا لیا۔

 اس سے قبل نذیر احمد جنجوعہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن