قائمہ کمیٹی کی سیکریٹری مواصلات کو برطرف کرنے کی سفارش، وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی مواصلات نے سیکریٹری مواصلات اور سی ای او کے خلاف توہین پارلیمنٹ کی کارروائی کا عندیہ دے دیا، کمیٹی نے سیکریٹری مواصلات کو عہدے سے ہٹانے کیلئے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سیکریٹری مواصلات اور سی ای او این ایچ اے کی عدم حاضری پر کمیٹی اراکین سخت برہم ہوئے۔ اجلاس میں وزارت اور این ایچ اے سے محض دو افسران نے شرکت کی۔
سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ آج کمیٹی میں محکمہ اور وزارت سے ایک ایک ذیلی افسر آئے، ایسی صورتحال پارلیمانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔ افسران نے بتایا کہ سیکریٹری مواصلات سندھ کی عدالت کے روبرو پیش ہوں گے اس لیے نہیں آسکے۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ ان کے لیے عدالت اہم ہے لیکن پارلیمنٹ نہیں، ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد تو عدالتوں کا حشر نشر کر دیا گیا ہے، اب تو جج سانس بھی بڑی مشکل سے لے رہے ہیں، ان کے ساتھ اچھا ہوا، انہوں نے ہمارے تین وزرائے اعظم کے ساتھ کیا کیا؟
قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی نے سیکریٹری مواصلات علی شیر محسود کو عہدے سے ہٹانے کے لیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
اراکین کمیٹی نے کہا کہ سیکریٹری مواصلات نے آج زیادتی کی ہے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے چیئرمین سینیٹ کو سفارش ارسال کی جائے گی اور نقل وزیراعظم آفس کو بھی بھیجی جائے گی۔
اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان کے درمیان تنازع کا تذکرہ ہوا۔ کنوینر کمیٹی کے مطابق وزیر نے کہا کہ
سارے جہان کے بے ایمان اس کمیٹی میں جمع ہو گئے ہیں، علیم خان پارلیمنٹ کا نمائندہ ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا اس نے ایسا کیوں کہا؟
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سب سے بڑا بے ایمان وہ خود ہے، پہلے اس معاملے کو نپٹائیں گے، ابھی تو وہ پاکستان توڑ کر دس بارہ صوبے بنا رہا ہے، اس نے سندھ توڑ کر دو صوبے بنانے کی بات کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔