عوام 15جنوری کو عوامی ریفرنڈم میں بھر پور شرکت کریں‘ حمیرا طارق کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-30
لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء(کالا قانون) کے خلاف اور صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم سے آگاہی کے لیے پیر کو پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس سے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید اور صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید نے خطاب کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہجماعت اسلامی پنجاب بھر کے عوام کی رائے لینے کے لیے 15 جنوری 2026ء کو پورے صوبے میں ایک صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس ریفرنڈم میں عوام فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اس عوام اور جمہوریت دشمن بلدیاتی ایکٹ کو قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں قائم نہ کرنا کھلی غیر جمہوری اور عوام دشمن پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 140-اے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک کالا قانون ہے جس کا مقصد اختیارات کو عوام کے بجائے بیوروکریسی کے ہاتھ میں دینا ہے۔ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی ثمینہ سعید نے کہا کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے عوامی نمائندگی کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کا نعرہ لگانے والے درحقیقت عوام کو اختیار دینے سے خوف زدہ ہیں، اسی لیے بلدیاتی نظام کو بے اختیار بنایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا خاتمہ کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنا ایک خطرناک فیصلہ ہے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن ایک ایسا ادارہ تھا جو پورے شہر کی مجموعی منصوبہ بندی، بڑے ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور یکساں بلدیاتی قوانین کے نفاذ کا ضامن تھا۔ اس کے خاتمے سے شہر ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے اور تمام اختیارات صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے پاس چلے گئے ہیں۔ناظمہ صوبہ وسطی پنجاب نازیہ توحید نے کہا کہ لاہور کو 7 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کر کے منصوبہ بندی کا اختیار صوبائی حکومت کو دے دیا گیا ہے جبکہ عملدرآمد بیوروکریسی کے ذریعے ہو گا۔ نام نہاد ٹاؤن کارپوریشنز محض کٹھ پتلی ادارے بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ پورا نظام عوامی نمائندگی اور جمہوریت کے منافی ہے، جس کے خلاف جماعت اسلامی بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران نے کہا کہ جماعت اسلامی لاہور سمیت پورے پنجاب میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز کو بے اختیار کرنے کے اس غیر آئینی اور عوام دشمن ایکٹ کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اس کالے بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل سطح پر احتجاجی دھرنے دیے اور اب عوامی رائے کے ذریعے اس کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 15 جنوری 2026ء کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور آئین کے آرٹیکل 140-اے کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں اپنی قیمتی رائے دیں۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبیدہ جبیں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہناز عاصمہ ،صوبہ وسطی پنجاب کی نائبین راشدہ شاہین ، رابعہ خالد ، سیکرٹری اطلاعات وسطی پنجاب صفیہ ناصر اور نائب ناظمہ ضلع لاہور شازیہ عبدالقادر ، شا ئما عثمان اور زیب آصف بھی موجود تھیں ۔
سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حلقہ خواتین جماعت اسلامی عوامی ریفرنڈم بلدیاتی ایکٹ ڈپٹی سیکرٹری پریس کانفرنس نے کہا کہ کے خلاف رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز