data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-08-30
لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء(کالا قانون) کے خلاف اور صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم سے آگاہی کے لیے پیر کو پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس سے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید اور صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید نے خطاب کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہجماعت اسلامی پنجاب بھر کے عوام کی رائے لینے کے لیے 15 جنوری 2026ء کو پورے صوبے میں ایک صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس ریفرنڈم میں عوام فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اس عوام اور جمہوریت دشمن بلدیاتی ایکٹ کو قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں قائم نہ کرنا کھلی غیر جمہوری اور عوام دشمن پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 140-اے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک کالا قانون ہے جس کا مقصد اختیارات کو عوام کے بجائے بیوروکریسی کے ہاتھ میں دینا ہے۔ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی ثمینہ سعید نے کہا کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے عوامی نمائندگی کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کا نعرہ لگانے والے درحقیقت عوام کو اختیار دینے سے خوف زدہ ہیں، اسی لیے بلدیاتی نظام کو بے اختیار بنایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا خاتمہ کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنا ایک خطرناک فیصلہ ہے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن ایک ایسا ادارہ تھا جو پورے شہر کی مجموعی منصوبہ بندی، بڑے ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور یکساں بلدیاتی قوانین کے نفاذ کا ضامن تھا۔ اس کے خاتمے سے شہر ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے اور تمام اختیارات صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے پاس چلے گئے ہیں۔ناظمہ صوبہ وسطی پنجاب نازیہ توحید نے کہا کہ لاہور کو 7 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کر کے منصوبہ بندی کا اختیار صوبائی حکومت کو دے دیا گیا ہے جبکہ عملدرآمد بیوروکریسی کے ذریعے ہو گا۔ نام نہاد ٹاؤن کارپوریشنز محض کٹھ پتلی ادارے بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ پورا نظام عوامی نمائندگی اور جمہوریت کے منافی ہے، جس کے خلاف جماعت اسلامی بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران نے کہا کہ جماعت اسلامی لاہور سمیت پورے پنجاب میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز کو بے اختیار کرنے کے اس غیر آئینی اور عوام دشمن ایکٹ کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اس کالے بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل سطح پر احتجاجی دھرنے دیے اور اب عوامی رائے کے ذریعے اس کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 15 جنوری 2026ء کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور آئین کے آرٹیکل 140-اے کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں اپنی قیمتی رائے دیں۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبیدہ جبیں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہناز عاصمہ ،صوبہ وسطی پنجاب کی نائبین راشدہ شاہین ، رابعہ خالد ، سیکرٹری اطلاعات وسطی پنجاب صفیہ ناصر اور نائب ناظمہ ضلع لاہور شازیہ عبدالقادر ، شا ئما عثمان اور زیب آصف بھی موجود تھیں ۔

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حلقہ خواتین جماعت اسلامی عوامی ریفرنڈم بلدیاتی ایکٹ ڈپٹی سیکرٹری پریس کانفرنس نے کہا کہ کے خلاف رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن