data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-08-19
کراچی(اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے سعود آباد ملیر میں جامعہ حنیفیہ کی سالانہ تقریب تکمیل بخاری شریف سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہان قومی ترجیحات کے لیے ڈائیلاگ کریں تاکہ ملک میں آئین کا تحفظ ہو ، عدلیہ و پارلیمنٹ آزاد ہوں ، عدل و انصاف کی بالا دستی ہو ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں ، با اختیار بلدیاتی نظام ہو ، چاروں صوبوں کے معاملات آئین کے مطابق چلائے جائیں ، کسی کو بھی عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا نہیں ڈالنا چاہیے ۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے مگر یہاں کے شہریوں سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا ، اسٹیبلشمنٹ نے انوکھے لاڈلے بلاول کے آگے ہتھیار ڈال دیے ، شہر قائد میں میئر عبد الستار افغانی اور سٹی ناظم نعمت اللہ خان جیسا عوامی خدمت انجام دینے والا جماعت اسلامی کا میئر آنا تھا مگر ہمارا راستہ روکا گیا ، تحریک انصاف کے 32یوسی چیئر مینز کو توڑ کر اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جو قابل مذمت ہے، اسٹیبلشمنٹ جواب دے کہ3 کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی کو کیوں اذیت میں مبتلا کیا گیا ؟ جماعت اسلامی اپنی خدمت ، محنت اور ٹیم ورک کے ساتھ کراچی کے دکھوں کا مداوا کر سکتی تھی مگر اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کو غیر جمہوری طریقے سے مسلط کیا جس کے باعث میگا سٹی کے شہریوں کو پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہیں ، شہر قائد میں جرائم بڑھتے جا رہے ہیں ، عوام کی جان و مال اور عزت محفوط نہیں ہے ، لوٹ مار کا بازار گرم ہے ، کراچی ہی نہیں پورے ملک کو فرسودہ و ظالمانہ نظام کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام فرسودہ نظام سے نجات کے لیے حافظ نعیم الرحمن کی تحریک بدل دو نظام کا ساتھ دیں ، عوامی کمیٹیوں کے ممبر بنیں اور حکمرانوں سے اپنا حق لیں ۔تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا ڈاکٹر عطا الرحمن، نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان عبد الحق ہاشمی ،امیر جماعت اسلامی ضلع ائر پورٹ محمد اشرف،مہتمم جامعہ حنیفیہ یامین منصوری ،ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العلما کراچی مولانا عبد الوحید،منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا محمد افضل نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی و ترامیم قابل مذمت ہیں ، منبرو محراب کو اس کے خلاف آواز اُٹھانا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ اتحاد کی بنیاد مسلک و فرقہ نہیں قرآن و سنت ہے ۔ باطل نظام کے خلاف نبی کریم ؐ نے اپنی زندگی میں جدو جہد کی ، لہٰذا ہم سب کو بھی نظام بدلنے کے لیے اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے ، مولانا عبد الحق ہاشمی نے کہا کہ مدارس ریاست کا اہم ستون ہیں اور دینی مدارس کے طلبہ ملک کا مستقبل اور بہترین اثاثہ ہیں ، محمد اشرف نے کہا کہ جماعت اسلامی فریضہ اقامت دین کی سربلندی کے لیے مصروف عمل ہے ۔ یامین منصوری نے جامعہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور اس موقع پر کہا کہ کلمہ کی بنیاد پر حاصل کی گئی ریاست میں قرآن و سنت کا نفاذ ہی ملک کی خوشحالی اور عوام کے تمام مسائل کا حل ہے ، مولانا عبد الوحید نے کہا کہ غزہ ، بنگلا دیش ، کشمیر سمیت دنیا میں تمام مظلوم مسلمانوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے ، مولانا محمد افضل نے کہا کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اسلام کے سپاہی اور ملک و قوم کا دست و بازو ہیں اور یہی چراغ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بیداری کا پیغام بن کر روشنی پھیلائیں گے ۔

مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ قبا آڈیٹوریم میں نظم صوبہ سندھ کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی