سندھ حکومت کے ترجمان مصطفیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ سندھ کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ جو ہوا اس کے وہ خود ذمے دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ بلوچ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورے کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی سے متعلق صوبائی حکومت کا مقدمہ لڑتے ہوئے کہا کہ سعید غنی نے ائیرپورٹ پر نہ صرف سہیل آفریدی کا استقبال کیا بلکہ انہیں اجرک اور ٹوپی پہنائی گئی جس سے ہم سندھ کی ثقافت کا مظاہرہ کرنا چاہ رہے تھے۔

یہ طے تھا کہ وزیر اعلی کا استقبال کرنا ہے

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے آنے سے پہلے ہی طے ہوچکا تھا کہ ان کا استقبال کیا جائے گا لیکن میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کیوں کیا گیا۔

مصطفیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تنازع سہیل آفریدی نے خود کھڑا کیا اور یہ لوگوں کے لیے سوشل میڈیا پر مواد پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سب چیزیں بہتر چل رہی تھیں تو شاید ان کو یہ پسند نہیں آیا اور تب ہی انہوں نے ایسا کیا تاکہ لوگوں میں انتشار پھیلے اور پاکستان تحریک انصاف کو شاید انتشار کے بغیر مزہ نہیں آتا۔

پی ٹی آئی کا ماضی کا ریکارڈ کے سامنے ہے

مصطفیٰ بلوچ کے مطابق پی ٹی آئی کا انتشار پھیلانے کا ماضی میں ایک ریکارڈ موجود ہے اس لیے سندھ حکومت بھی کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی کیوں کہ لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ اگر کراچی میں ہوتا تو پھر کون جواب دیتا۔

’ہم تنازعات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے‘

مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ سندھ اور سندھ سے باہر سے آنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہمارے ذمے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تنازعات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ سیاسی یکجہتی ہو۔

وزیراعلیٰ کے خلاف باتیں کی جائیں اور پھر وہ ملاقات بھی کریں؟

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ہمیں کسی جماعت کے جلسوں سے مسلئہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارا ووٹ بینک محفوظ ہے اور جہاں تک وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی کی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کی بات ہے تو وہ کسی بھی وزیراعلیٰ کے خلاف آپ باتیں کریں گے تو وہ پھر کوئی کیسے ان سے سے ملے گا اس لیے مراد علی شاہ نے اپنا ایک نمائندہ بھیج کر سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔

’کیا ہی اچھا ہوتا یہ آرام سے جلسہ کرکے چلے جاتے‘

مصطفیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہ صرف میڈیا پر حملہ کیا بلکہ انتظامیہ کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔

مزید پڑھیے: 9 مئی واقعات: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی و دیگر کی موجودگی کی تصدیق

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا گیا جو کہ غلط ہے، وہ تو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موجود تھی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اپنا جلسہ کرکے آرام سے چلے جاتے۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جلسے کے لیے لوگ جمع نہیں ہوسکے اس لیے انتشار پھیلایا گیا۔

اگلی بار کون سا صوبہ انہیں سہولیات فراہم کرے گا؟

مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ اب اگلی بار اگر یہ صورت حال ہوگی تو پھر ظاہر ہے ہر صوبہ ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔

مزید پڑھیں: ’آئندہ انگریزی میں تقریر کی تو مجھے غصہ آ جائےگا‘، سہیل آفریدی وی سی ویمنز یونیورسٹی پشاور پر برہم

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ ہر سرگرمی قانون کے دائرے میں ہو اور اگر ایسا ہو تو سہولیات فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ترجمان حکومت سندھ مصطفیٰ بلوچ سہیل آفریدی کا دورہ سندھ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترجمان حکومت سندھ مصطفی بلوچ سہیل ا فریدی کا دورہ سندھ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سہیل ا فریدی کا استقبال سندھ حکومت انہوں نے تھا کہ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن