سپلا کا اعلیٰ تعلیم کیلئے علیحدہ وزارت کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر احتجاج، تدریسی امور کے بائیکاٹ اور بلاول ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے لیے علیحدہ وزارت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سپلا کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی نائب صدر خرم رفیع اور خاتون نائب صدر شبانہ افضل کا کہنا ہے کہ سندھ کے کالجز حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب روز بروز کھنڈر بنتے جا رہے ہیں، کلاس رومز میں بچوں کے لیے ٹوٹی ہوئی بینچز، سوئیپرز کی کمی کے سبب صفائی کے ناقص انتظامات ہیں۔
فرنیچر کی کمی، لائبریرییز اور لیبارٹریز کی خراب صورتحال ہے، انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرمیڈیٹ کمپیوٹر سائنس کے لیے آج تک سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے کوئی کتاب شائع نہیں کی، اسی طرح کامرس کے حوالے سے بھی تا حال کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔
سپلا رہنماوں نے پیر کو ایس ایم آرٹس و کامرس کالج میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ 2017 میں ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ سے محکمہ کالج ایجوکیشن کو علیحدہ کر دیا گیا تھا، ہر حکمے کا ایک الگ وزیر ہوتا ہے لیکن محکمہ کالج ایجوکیشن کا کوئی علیحدہ وزیر نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ کے کالج اساتذہ کو احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ، صوبائی اسمبلی میں اس بات کا اعلان بھی چکے ہیں کہ سندھ کے کالج اساتذہ کی ترقیوں میں بہت سی مشکلات ہیں جس کے سبب ہم ان کو صوبہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فائیوٹیئر فارمولا دے رہے ہیں مگر تاحال ہمیں فائیوٹیئر فارمولا نہیں دیا گیا۔
انھوں نے اقربا پروری اور سفارشی کلچر کو فروغ دینے کے سبب پہلے سے پرنسپل اور اساتذہ کے جبری تبادلے کی مذمت کی۔
سپلا رہنماوں نے کہا کہ مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک کا شیڈول جاری کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کا آغاز 15 جنوری کو کراچی ریجن کے تمام کالجز سے کیا جائے گا، 19 جنوری کو سکھر ریجن کے تمام کالجز میں جبکہ 21 جنوری کو حیدر آباد ریجن کے تمام کالجز میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
انھوں نے کہا اس کے بعد بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو پھر 22 جنوری کو سکھر ریجن میں، 29 جنوری کو حیدر آباد ریجن میں جبکہ تین فروری کو کراچی ریجن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
پھر بھی مطالبے نہ مانے گئے تو پھر 9 فروری کو سندھ بھر کے تمام کالجز میں تعلیمی و تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس کے بعد 12 فروری کو بحالت مجبوری بلاول ہاؤس کراچی میں سندھ بھر کے کالج اساتذہ دھرنا دیں گے۔
انھوں نے کہا منصفانہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی کا اجراء کیا جائے، کالجز میں غیر تدریسی عملہ کی کمی کو فوری دور کیا جائے، کالجز کے انفراسٹرکچر، فرنیچر اور لیبارٹریز میں آلات کی کمی کو ختم کیا جائے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت کمپیوٹر سائنس، کامرس اور آرٹس کی درسی کتب کا اجراء کیا جائے۔
اقربا پروری اور سفارشی کلچر سے ہٹ کر میرٹ پر مستقل پرنسپلز/ ڈی ڈی اوز کی تعیناتی کی جائے، منجمد الاؤنسز کی مہنگائی کی شرح کے تناسب سے بحالی یا نظر ثانی کی جائے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنسز کا اجرا کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے تمام کالجز کالجز میں انھوں نے جنوری کو کیا جائے کے کالج کی کمی کے سبب نے کہا
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔