Jang News:
2026-07-24@07:10:40 GMT

سپلا کا اعلیٰ تعلیم کیلئے علیحدہ وزارت کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

سپلا کا اعلیٰ تعلیم کیلئے علیحدہ وزارت کا مطالبہ

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر احتجاج، تدریسی امور کے بائیکاٹ اور بلاول ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے لیے علیحدہ وزارت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سپلا کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی نائب صدر خرم رفیع اور خاتون نائب صدر شبانہ افضل کا کہنا ہے کہ سندھ کے کالجز حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب روز بروز کھنڈر بنتے جا رہے ہیں، کلاس رومز میں بچوں کے لیے ٹوٹی ہوئی بینچز، سوئیپرز کی کمی کے سبب صفائی کے ناقص انتظامات ہیں۔ 

فرنیچر کی کمی، لائبریرییز اور لیبارٹریز کی خراب صورتحال ہے، انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس  دور میں انٹرمیڈیٹ کمپیوٹر سائنس کے لیے آج تک سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے کوئی کتاب شائع نہیں کی، اسی طرح کامرس کے حوالے سے بھی تا حال کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔

سپلا رہنماوں نے پیر کو ایس ایم آرٹس و کامرس کالج میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ 2017 میں ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ سے محکمہ کالج ایجوکیشن کو علیحدہ کر دیا گیا تھا، ہر حکمے کا ایک الگ وزیر ہوتا ہے لیکن محکمہ کالج ایجوکیشن کا کوئی علیحدہ وزیر نہیں ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ سندھ کے کالج اساتذہ کو احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ، صوبائی اسمبلی میں اس بات کا اعلان بھی چکے ہیں کہ سندھ کے کالج اساتذہ کی ترقیوں میں بہت سی مشکلات ہیں جس کے سبب ہم ان کو صوبہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فائیوٹیئر فارمولا دے رہے ہیں مگر تاحال ہمیں فائیوٹیئر فارمولا نہیں دیا گیا۔ 

انھوں نے اقربا پروری اور سفارشی کلچر کو فروغ دینے کے سبب پہلے سے پرنسپل اور اساتذہ کے جبری تبادلے کی مذمت کی۔

 سپلا رہنماوں نے کہا کہ مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک کا شیڈول جاری کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کا آغاز 15 جنوری کو کراچی ریجن کے تمام کالجز سے کیا جائے گا، 19 جنوری کو سکھر ریجن کے تمام کالجز میں جبکہ 21 جنوری کو حیدر آباد ریجن کے تمام کالجز میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا اس کے بعد بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو پھر 22 جنوری کو سکھر ریجن میں، 29 جنوری کو حیدر آباد ریجن میں جبکہ تین فروری کو کراچی ریجن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

پھر بھی مطالبے نہ مانے گئے تو پھر 9 فروری کو سندھ بھر کے تمام کالجز میں تعلیمی و تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس کے بعد 12 فروری کو بحالت مجبوری بلاول ہاؤس کراچی میں سندھ بھر کے کالج اساتذہ دھرنا دیں گے۔

انھوں نے کہا منصفانہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی کا اجراء کیا جائے، کالجز میں غیر تدریسی عملہ کی کمی کو فوری دور کیا جائے، کالجز کے انفراسٹرکچر، فرنیچر اور لیبارٹریز میں آلات کی کمی کو ختم کیا جائے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت کمپیوٹر سائنس، کامرس اور آرٹس کی درسی کتب کا اجراء کیا جائے۔

اقربا پروری اور سفارشی کلچر سے ہٹ کر میرٹ پر مستقل پرنسپلز/ ڈی ڈی اوز کی تعیناتی کی جائے، منجمد الاؤنسز کی مہنگائی کی شرح کے تناسب سے بحالی یا نظر ثانی کی جائے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنسز کا اجرا کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے تمام کالجز کالجز میں انھوں نے جنوری کو کیا جائے کے کالج کی کمی کے سبب نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ