فائیو جی ابتدائی طور پر پاکستان کے کن مقامات پر دستیاب ہوگا؟ اہم خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
فائیو جی ابتدائی طور پر پاکستان کے کن مقامات پر دستیاب ہوگا؟ اہم خبر آ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) پاکستان میں طویل انتظار کے بعد بالآخر فائیو جی (5جی) سروس کے آغاز کی امید ایک بار پھر جاگ اٹھی ہے۔
حکومت اور ریگولیٹری اداروں کی حالیہ سرگرمیوں کے بعد یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آیا رمضان المبارک سے قبل 5جی اسپیکٹرم آکشن واقعی ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5جی آکشن سے متعلق اپنی بنیادی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ اسپیکٹرم آکشن کا مکمل ڈیزائن تیار ہے اور نیٹ ورک، ٹیکنالوجی، کوالٹی آف سروس اور رول آؤٹ اسٹریٹجی پر تفصیلی کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق تمام تر تیاریوں کے بعد 5جی اسپیکٹرم آکشن 26 فروری کو متوقع ہے۔ یہ آکشن پاکستان کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا ٹیلی کام آکشن ہوگا، جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالر بغیر ٹیکس آمدن متوقع ہے۔
آکشن کے بعد کامیاب ٹیلی کام آپریٹرز کو ٹیکنالوجی نیوٹرل 15 سالہ لائسنس دیا جائے گا، جبکہ 5جی سروس کا آغاز مرحلہ وار بنیادوں پر ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کی شرط عائد کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق 5جی کے ساتھ ساتھ 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ آکشن کے بعد آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں کم از کم 4 سے 5 گنا اضافہ کریں، کیونکہ ملک میں کوالٹی آف سروس ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔
فائیو جی سروس ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں متعارف کرائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ 5جی سروس ابتدائی طور پر بڑے شہروں اور منتخب کمرشل علاقوں میں متعارف کرائی جائے گی، جہاں 5جی ڈیوائسز کی دستیابی نسبتاً زیادہ ہے۔ ابتدائی رول آؤٹ میں اسلام آباد کے بلیو ایریا اور ایف-10، کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن، جبکہ لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم تجارتی علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔
پہلے سال کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔ جہاں 5جی دستیاب ہوگی وہاں انٹرنیٹ اسپیڈ موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں صارفین کو بہتر 4جی سروس فراہم کی جائے گی۔
پی ٹی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ 5جی نیٹ ورک بیک ورڈ کمپٹیبل ہوگا، یعنی 5جی موبائل فون نہ رکھنے والے صارفین بھی 5جی علاقوں میں بلا تعطل 4جی سروس استعمال کر سکیں گے۔ 5جی کو موجودہ نیٹ ورک انفراسٹرکچر پر اضافی ٹیکنالوجی لیئر کے طور پر نصب کیا جائے گا۔
اسٹار لنک سے متعلق سوال پر پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ معاملہ تاحال پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے پاس زیر غور ہے۔ کلیئرنس کے بعد جب بھی اسٹار لنک پی ٹی اے سے لائسنس کے لیے رجوع کرے گا، تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر اجازت دے دی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآسٹریلیا کیخلاف سیریز اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے ممکنہ قومی کھلاڑیوں کے نام سامنے آ گئے کراچی شدید سرد موسم کی لپیٹ میں، کم سے کم پارہ 6 ڈگری تک چلا گیا وفاقی آئینی عدالت وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے مارنے کیخلاف درخواست دائر فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا: آیت اللّٰہ خامنہ ای حویلیاں جلسہ: سہیل آفریدی کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس، الیکشن کمیشن کل سماعت کرے گا ایران، پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فائیو جی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔