سہیل آفریدی، افغانستان وTTPکی نمائندگی نہیں،امن پر توجہ دیں ، فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی نمائندگی کی بجائے اپنے صوبہ اور ملک میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پولیس و مسلح افواج دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں جان کی قربانیاں دے رہی ہیں۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کی سرزمین ملوث ہونے کے ثبوت مانگتی ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا کبھی اپنی ریاست سے بھی ثبوت طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ افغان سرزمین ہمارے صوبہ اور ملک میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت افغانستان اور TTP کی نمائندگی کی بجائے اپنے صوبہ میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے اور آئی ڈی پیز کے تحفظ کے لیے ابھی سے تیاری کرے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے جدید ہتھیار اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس بہادر ہے، لیکن صوبائی حکومت نے ان کی استعداد بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے اور وفاق کی جانب سے فراہم کی گئی گاڑیوں کو لینے سے بھی انکار کیا گیا۔
گورنر نے مزید کہا کہ صوبے میں امن قائم رکھنے کے لیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سندھ دورے کے دوران فل سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ انتشار کی سیاست کی ہے اور ان کے پاس کوئی ایسا فرد نہیں جو وفاق میں اپوزیشن لیڈر بننے کے قابل ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔