متحدہ مجلسِ علماء نے مطالبہ کیا کہ اس کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جائے، دینی اداروں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے مذہبی آزادی، حقِ رازداری اور وقار سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر متحدہ مجلسِ علماء نے وادی کشمیر میں پولیس کی جانب سے جاری کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگین سوالات اٹھائے ہیں.

جس کے تحت مساجد، ان کی انتظامی کمیٹیوں، ائمہ، خطباء اور عبادت گاہوں سے وابستہ افراد بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے بارے میں انتہائی وسیع اور مداخلت پر مبنی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ متحدہ مجلسِ علماء کو اطلاع ملی ہے کہ پولیس کی جانب سے کئی صفحات پر مشتمل تفصیلی فارم تقسیم کئے جا رہے ہیں، جن میں مساجد کے نظم و نسق اور انتظام سے وابستہ تمام افراد سے نہایت ذاتی اور حساس نوعیت کی معلومات طلب کی جا رہی ہیں، جن میں ذاتی شناختی تفصیلات، خاندانی کوائف، مالی معلومات، فون تفصیلات، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پروفائلز، پاسپورٹ کی تفصیلات، سفری تاریخ اور حتیٰ کہ موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز تک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مساجد کی مسلکی شناخت بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث بھی طلب کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی غیر معمولی اور مداخلت پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اس کارروائی نے دینی اداروں، ائمہ و خطباء اور عام عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ متحدہ مجلسِ علماء نے واضح طور اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بنیادی حقوق، حقِ رازداری اور شخصی معلومات کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مساجد عبادت، دینی رہنمائی اور سماجی خدمت کے مقدس مراکز ہیں اور ان کے اندرونی دینی معاملات کو من مانی نگرانی اور مداخلت پر مبنی جانچ پڑتال کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جس نوعیت اور جس حد تک معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ کسی بھی معمول کے انتظامی تقاضے سے کہیں بڑھ کر ہیں، جو نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں اور اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ مذہبی اداروں کو جبر اور نگرانی کے ذریعے منظم طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ یہ کارروائی صرف جموں و کشمیر کی مسلم برادری کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ جو معاملے کو مزید مشتبہ بناتی ہے۔ مجلس علما شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتی ہے کہ اس معاملے میں منتخب حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے اور اس کارروائی کو فی الفور روکا جانا چاہیے کیونکہ یہ اعتماد کو مجروح کرتی ہے، دینی ذمہ داران میں خوف پیدا کرتی ہے اور ریاست کی مسلم برادری کے لیے ایک نہایت تشویشناک پیغام دیتی ہے۔ اس طرح مساجد اور دینی شخصیات کو الگ سے نشانہ بنانے والے اقدامات غیر منصفانہ، غیراخلاقی اور سماجی ہم آہنگی کے لئے نقصان دہ ہیں۔ متحدہ مجلسِ علماء لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جائے، دینی اداروں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے مذہبی آزادی، حقِ رازداری اور وقار سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طلب کی جا رہی اس کارروائی کرتی ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر