مساجد کی پولیس پروفائلنگ پر متحدہ مجلس علماء کی شدید تنقید، کارروائی حقوق کی خلاف ورزی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
متحدہ مجلسِ علماء نے مطالبہ کیا کہ اس کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جائے، دینی اداروں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے مذہبی آزادی، حقِ رازداری اور وقار سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر متحدہ مجلسِ علماء نے وادی کشمیر میں پولیس کی جانب سے جاری کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگین سوالات اٹھائے ہیں.
اس کے علاوہ مساجد کی مسلکی شناخت بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث بھی طلب کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی غیر معمولی اور مداخلت پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اس کارروائی نے دینی اداروں، ائمہ و خطباء اور عام عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ متحدہ مجلسِ علماء نے واضح طور اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بنیادی حقوق، حقِ رازداری اور شخصی معلومات کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مساجد عبادت، دینی رہنمائی اور سماجی خدمت کے مقدس مراکز ہیں اور ان کے اندرونی دینی معاملات کو من مانی نگرانی اور مداخلت پر مبنی جانچ پڑتال کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جس نوعیت اور جس حد تک معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ کسی بھی معمول کے انتظامی تقاضے سے کہیں بڑھ کر ہیں، جو نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں اور اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ مذہبی اداروں کو جبر اور نگرانی کے ذریعے منظم طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ کارروائی صرف جموں و کشمیر کی مسلم برادری کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ جو معاملے کو مزید مشتبہ بناتی ہے۔ مجلس علما شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتی ہے کہ اس معاملے میں منتخب حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے اور اس کارروائی کو فی الفور روکا جانا چاہیے کیونکہ یہ اعتماد کو مجروح کرتی ہے، دینی ذمہ داران میں خوف پیدا کرتی ہے اور ریاست کی مسلم برادری کے لیے ایک نہایت تشویشناک پیغام دیتی ہے۔ اس طرح مساجد اور دینی شخصیات کو الگ سے نشانہ بنانے والے اقدامات غیر منصفانہ، غیراخلاقی اور سماجی ہم آہنگی کے لئے نقصان دہ ہیں۔ متحدہ مجلسِ علماء لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جائے، دینی اداروں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے مذہبی آزادی، حقِ رازداری اور وقار سے متعلق آئینی ضمانتوں کی پاسداری کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طلب کی جا رہی اس کارروائی کرتی ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔