سندھ میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی لاکھوں مالیت کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-02-21
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کی ہدایت پر سندھ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ محکمہ نارکوٹکس کنٹرول سندھ روہڑی سرکل نے کندرا روڈ اور جیل روڈ پر دو علیحدہ علیحدہ کاروائیوں میں لاکھوں روپے مالیت کی 49 کلوگرام چرس برآمد کرکے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا اور دو گاڑیاں ضبط کرلیں۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ نارکوٹکس کنٹرول ونگ روہڑی سرکل کی ٹیم نے کندرا روڈ پر کاروائی کے دوران کار نمبر BSB-978 سے 24 کلوگرام چرس برآمد کرکے تین ملزمان اویس احمد ولد غلام مصطفی، وسیم احمد ولد سلیمان سرکی اور محمد اطہر ولد سکندر سرکی گرفتار کیا جبکہ جیل روڈ روہڑی پر کاروائی میں کار نمبر BYR-805 سے 25 کلوگرام چرس برآمد کرکے ایک ملزم اسلام خان ولد محمد عثمان کو گرفتار کیا۔ صوبائی وزیر ایکسائز سندھ مکیش کمار چاولہ نے نارکوٹکس کنٹرول ونگ روہڑی سرکل کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے منشیات فروشوں و اسمگلروں کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نارکوٹکس کنٹرول
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔