ایران میں احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی: رائٹرز
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ایران میں احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی: رائٹرز WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
تہرن (آئی پی ایس )غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ایک عہدیدا ر نے دعوی کیاہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریبا 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ایرانی عہدیدارکے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی۔ عہدیدار نے دعوی کیا کہ جن عناصر کو انہوں نے “دہشت گرد” قرار دیا، وہی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر اب تک ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کوئی اعدادو شمار جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران میں یہ احتجاج خراب معاشی حالات کے باعث شروع ہوئے، یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ سال اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران پر بین الاقوامی دبا میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شب اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی بھی زیر غور ہے، اور رواں ماہ کے آغاز میں انہوں نے کہا تھا کہ “ہم مکمل طور پر تیار ہیں”۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلاول کی مداخلت،ن لیگ اور پی پی کے اختلافات ختم ،معاملات حل بلاول کی مداخلت،ن لیگ اور پی پی کے اختلافات ختم ،معاملات حل ٹرمپ کا ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر بھاری ٹیرف کا اعلان محمود خان اچکزئی کی بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ہو گئی پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ،عمران خان ہی لیڈر ہے،گوہر خان وفاق نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دیدی ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔