امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، کیونکہ ملک بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
سفارتخانہ نے مشورہ دیا کہ امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔
دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے۔
سفارتخانے نے مزید کہا ہے کہ وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت جنگ: چین کا پہلی بار جے 10 سی طیارے کی کامیابی کا باضابطہ اعلان پاک بھارت جنگ: چین کا پہلی بار جے 10 سی طیارے کی کامیابی کا باضابطہ اعلان ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا امریکا نے /2026 میں اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کردیے: طلبہ اور مجرمانہ ریکارڈ والے افراد نشانے پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ممبر فواد چوہدری کی اسد محمود سے ملاقات ، سیاسی حکمت عملی پر سیر حاصل گفتگو پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی سے احتجاج کے بعد وزیر اعظم نے اسپشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لے لیا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکا نے شہریوں کو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔