ایرانی قوم نے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا، حکومت کے حق میں مظاہرے تاریخی ہیں: خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر قوم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں سپریم لیڈر نے کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی شاندار ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے لکھا کہ غیر ملکی دشمن اندرونی کرائے کے ایجنٹوں کے ذریعے اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے، تاہم عظیم ایرانی قوم نے دشمن کے مقابلے میں اپنے عزم، اتحاد اور قومی شناخت کا بھرپور اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مظاہرے امریکی سیاست دانوں کے لیے ایک واضح پیغام تھے۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا اپنے فریبی اقدامات بند کرے اور اپنے آلہ کاروں پر انحصار ترک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم مضبوط، باخبر اور طاقتور ہے، دشمن کو پہچانتی ہے اور اس کے خلاف ہمیشہ میدان میں موجود رہتی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں حکومت کے حق میں ایک بڑا عوامی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرے میں شریک مرد و خواتین نے ایرانی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم لیڈر ایرانی قوم خامنہ ای
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔