فرینکفرٹ: گھریلو مصنوعات کی نمائش ہیم ٹیکسٹائل کا آغاز، پاکستانی مصنوعات کی پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
فرینکفرٹ:گھریلو مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026ء کا آغاز ہوگیا، پاکستانی مصنوعات کو بھرپور رسپانس مل رہا ہے، نمائش میں پاکستانی گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کے ساتھ کارپٹ ایکسپورٹرز بھی شرکت کررہے ہیں جس سے پاکستان کی معدوم ہوجانے والی قالین سازی کی صنعت کی بحالی کی امید ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان گھریلو ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026ء میں چوتھے بڑے ملک کی حیثیت سے شریک ہے، جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں 12 جنوری سے شروع ہونے والی اس عالمی نمائش میں 65 ممالک کے 3,100 نمائش کنندگان حصہ لے رہے ہیں۔
نمائش میں پاکستان کی شرکت میں رواں سال نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مجموعی طور پر 285 پاکستانی کمپنیاں ہوم ٹیکسٹائل کی مختلف مصنوعات کے ساتھ عالمی خریداروں اور مندوبین کے سامنے اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔ اس سال نمائش میں پہلی بار پاکستانی قالین بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن کے 11 قالین ایکسپورٹرز نمائش میں شریک ہیں۔
نمائش کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے قومی پویلین قائم کیا ہے، جہاں 58 چھوٹے اور درمیانے درجے کی برآمدی کمپنیوں کے اسٹال لگائے گئے ہیں۔
نمائش میں شریک ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل یورپی مارکیٹ تک رسائی کا ایک اہم ترین پلیٹ فارم ہے، جہاں براہِ راست خریداروں سے روابط قائم ہوتے ہیں اور یورپی مارکیٹ کی طلب، معیار اور رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
قومی پویلین میں شریک چوہدری اعجاز احمد اینڈ سنز کے مارکیٹنگ منیجر محمد حفیظ نے کہا کہ وہ گزشتہ تین برس سے مسلسل اس نمائش میں شرکت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یورپ کو برآمدات بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق ہر سال شرکت سے خریداروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور نمائش سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر کمپنی اپنی پراڈکٹ لائن کو مزید بہتر بناتی ہے۔
الہیٰ فیبرک کے ڈائریکٹر شیخ مبشر احمد نے نمائش کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سال پاکستانی اسٹالز کو کشادہ اور مصروف ایریا میں جگہ دی گئی ہے، جس کے باعث پہلے روز سے ہی وزیٹرز کی آمد و رفت جاری ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
نازو انٹرنیشنل کے سی ای او عبدالہادی نے کہا کہ ہیم ٹیکسٹائل نمائش پاکستانی گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی خریدار ماحول دوست مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے پیش نظر ان کی کمپنی اپنے پیداواری عمل اور ویسٹ مینجمنٹ کو ماحول دوست بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ایکسپورٹرز مسابقت بہتر بنانے کے لیے سولر اور ونڈ انرجی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، تاہم اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔
عبدالہادی نے کہا کہ جو کمپنیاں ماحول دوست توانائی کے ذرائع اختیار کر رہی ہیں انہیں کاربن کریڈٹس کا فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے، جس سے یورپی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ ایکسپورٹرز کے مطابق ہیم ٹیکسٹائل نمائش پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں جاری کمی کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو پیداواری لاگت کم کرنے، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں کمی اور متبادل توانائی کے فروغ کے لیے صنعت کو مؤثر سپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیم ٹیکسٹائل کے مطابق رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔