اپوسٹائل تصدیق سے پاکستان کو گزشتہ سال 2 ارب روپے کی آمدن
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال اپوسٹائل تصدیق کے عمل کے ذریعے 2 ارب روپے کی آمدن حاصل کی، اپوسٹائل ایک بین الاقوامی تصدیقی نظام ہے جس کے تحت کسی ملک کی سرکاری دستاویزات کو دوسرے ممالک میں قانونی طور پر قابلِ قبول بنایا جاتا ہے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اپوسٹائل نظام ہیگ کنونشن 1961 کے تحت نافذ کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد تعلیمی، قانونی اور سرکاری دستاویزات کی بین الاقوامی سطح پر توثیق کو آسان بنانا ہے تاکہ شہریوں کو بار بار سفارت خانوں اور مختلف اداروں کے چکر نہ لگانا پڑیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے جعلی دستاویزات کی روک تھام اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نادرا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ڈیٹا سے منسلک اے آئی پر مبنی جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت دستاویزات کی تصدیق کا عمل خودکار، محفوظ اور شفاف بنایا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ شہریوں کے لیے دستاویزات کی تصدیق کا عمل مزید آسان، تیز اور قابلِ اعتماد ہو جائے گا، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جعلسازی کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔
ارکانِ کمیٹی نے اپوسٹائل تصدیق کے نظام اور مجوزہ ڈیجیٹل اصلاحات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں سرکاری امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق استوار کرنے میں مدد ملے گی اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دستاویزات کی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔