پاکستان جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت کے معاہدے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور ایسے کسی بھی معاہدے میں چین کی مرضی بھی شامل ہوگی۔ پاکستان کے وزیرِ برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ مشترکہ طور پر پاکستان اور چین کی جانب سے بنائے گئے لڑاکا طیارے جے ایف-17 تھنڈر کی فروخت کے معاہدے پر متعدد ممالک سے ’مذاکرات‘ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ (ان طیاروں میں) بہت سارے ممالک کی دلچسپی ہے۔‘ جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری ایک ایکٹو الیکٹرونکلی سکینڈ ایرے (اے ای ایس اے) ریڈار اور لانگ رینج بی وی آر سے لیس 4.

5 جنریشن کا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو مختلف قسم کے جنگی مشنز میں حصے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی وزیرِ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے تواتر سے سرکاری ذرائع کے حوالے سے ایسی خبریں شائع کی جن میں لیبیا، سوڈان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں بالخصوص جے ایف-17 تھنڈر کی فروخت کی بات چیت کا ذکر ہے۔ تاہم رضا حیات ہراج نے کسی بھی ملک کا نام لینے سے اجتناب برتا اور کہا: ’یہ محفوظ رکھے جانے والے راز ہیں، میں کسی ملک کا نام نہیں لے سکتا کہ ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات کس سطح پر ہیں۔‘ ’جب یہ (طیارے) جائیں گے تو دنیا کو پتا چلے گا کہ کن کن ممالک نے خریدے ہیں۔جے ایف-17 تھنڈر طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے اور پاکستانی وزیرِ برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کے مطابق ’اس طیارے کو 7 سے 10 مئی (پاکستان اور انڈیا کی جنگ) کے دوران آزمایا گیا ہے جو اس طیارے کی کارکردگی تھی اسے دنیا کی ایئر فورسز نے دیکھا، انھوں نے اس کی تعریف کی۔‘ رضا حیات ہراج کہتے ہیں کہ اس لڑاکا طیارے کی کارکردگی کے علاوہ اس کی قیمت بھی ’ایک اہم چیز‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اوسطاً ایسے جہازوں کی قیمت 250 سے 350 ملین ڈالر ہوتی ہے لیکن جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی قیمت ان طیاروں سے کم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی قیمت کیا ہے تو ان کا کہنا تھا: ’اس کی قیمت تقریباً 40 سے 50 ملین ڈالر ہے، اس کا انحصار جہاز کی خصوصیات (جہاز کی قسم) پر ہے اور قیمت اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔‘ رضا حیات ہراج نے بتایا کہ ’اس جہاز کا کچھ حصہ چین میں تیار ہوتا ہے اور کچھ حصہ پاکستان میں تیار ہوتا ہے۔ جب بھی اگر ہمارا کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو چین کو اس میں شامل کیا جائے گا۔‘یہاں یہ سوال بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہوگا کہ کیا پاکستان میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ بڑے معاہدے ہونے کی صورت میں وقت پر یہ جہاز تیار کر سکے؟ رضا حیات ہراج نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے قومی دفاع سے متعلق سوال ہے۔ یہ ہمارے راز ہیں، انھیں آپ راز ہی رہنے دیں۔‘ ’یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ایک دن میں بنتی ہے۔ آپ کو ایک کمرہ بھی بنانا ہو تو اس میں وقت لگتا، یہ تو پھر ایک اسٹیٹ آف آرٹ چیز ہے، وقت لگے گا اس میں۔‘بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستان میں چینی سفارتخانے اور چینی وزارتِ خارجہ کو بذریعہ ای میل سوالات بھیجے تھے، تاہم اس خبر کے چھپنے تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستانی وزیر بھی جے ایف-17 تھنڈر کی فروخت کے متوقع معاہدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ جہاز ہر ملک کے لیے برائے فروخت نہیں ہے۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ہم ان ہی کو فروخت کریں جو ہمارے دوست ممالک ہیں۔‘ ’ایسی ڈیل کے وقت جیوپولیٹیکل صورتحال کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ یہ طیارے جس کے پاس بھِی جائیں گے وہ دوستانہ ممالک ہوں گے، ایسا تو نہیں ہو سکتا نہ کہ آپ دشمن کو ہی اپنی بندوق بیچ دیں۔بی بی سی نے انٹرویو کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ برس ہونے والے دفاعی معاہدے پر جب وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا جیات ہراج سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی تفصیلات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ ’یہ فیلڈ مارشل (عاصم منیر)، وزیرِ اعظم (شہباز شریف) اور سعودی حکومت کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بتا سکتا۔‘ بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ شاید ترکی بھی ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کی جانب سے سرکاری سطح پر اس پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے رضا حیات ہراج کہتے ہیں کہ ’سٹریٹجک اعتبار سے ترکی، چین، سعودی عرب اور آذربائیجان پاکستان کے قریبی دوستانہ ممالک ہیں اور سٹریٹجک پالیسی کے لحاظ سے ان سے تعاون کا ایک قریبی رشتہ ہے۔‘ کچھ عرصہ قبل خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ترکی پاکستان میں ڈرونز بنانے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: رضا حیات ہراج نے جے ایف 17 تھنڈر پاکستانی وزیر پاکستان اور پاکستان میں کی فروخت حوالے سے طیارے کی کی قیمت کے ساتھ ہیں کہ کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری

وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے

پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے

بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ

جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔

کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں

 کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا