اے آئی نیل پالش، چند لمحوں میں ناخنوں کا انداز بدلنے والی ٹیکنالوجی متعارف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
خوبصورتی اور ٹیکنالوجی کا امتزاج ایک نئی سطح پر پہنچ گیا ہے، جہاں اب ناخنوں کا رنگ بدلنا بھی جادو جیسا تجربہ بن چکا ہے۔ امریکا کی ایک کمپنی ’آئی پالش‘ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید نیل پالش کِٹ متعارف کرائی ہے جو چند ہی سیکنڈز میں ناخنوں کا رنگ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس نئی کِٹ کے ذریعے اب دن، شام یا پارٹی کے مطابق رنگ منتخب کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ نیلا، سرخ یا کوئی بولڈ شیڈ، سب کچھ فوری طور پر ممکن ہے، وہ بھی نیل پالش ریمور کے جھنجھٹ یا خشک ہونے کے انتظار کے بغیر۔
کمپنی کے مطابق یہ پریس آن ایکریلک ناخن ایک اسمارٹ موبائل ایپ کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں، جنہیں 400 سے زائد رنگوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اس منفرد ٹیکنالوجی میں ناخنوں کو ایک خاص ’میجک وینڈ‘ میں رکھا جاتا ہے، جہاں چند لمحوں کے اندر رنگ بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ صارف اپنی پسند کے مطابق اس رنگ کو منٹوں، گھنٹوں یا کئی دنوں تک برقرار رکھ سکتا ہے اور جب دل چاہے دوبارہ نیا رنگ منتخب کر سکتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس کِٹ میں تمام ضروری اشیاء شامل ہیں، جن میں مختلف سائز کے پریس آن ناخن، جادوئی وینڈ، بونڈنگ گلو، تیزی سے خشک ہونے والی ٹاپ کوٹ اور ناخنوں کی تیاری کے بنیادی آلات جیسے کیوٹیکل پشر، بفر اور وائپ شامل ہیں۔
View this post on Instagramموبائل ایپ کے ذریعے رنگوں کا انتخاب نہایت آسان رکھا گیا ہے۔ ’آئی پالش‘ کا دعویٰ ہے کہ یہ ناخن غیر زہریلے ہیں اور روزمرہ استعمال کے لیے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم کمپنی نے یہ احتیاط بھی بتائی ہے کہ جو افراد دیگر وائرلیس الیکٹرانک آلات استعمال کرتے ہیں، پیس میکر رکھتے ہیں یا جلد کی حساسیت کا شکار ہیں، وہ استعمال سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
یہ جدید اے آئی نیل پالش کِٹ 95 ڈالر میں دستیاب ہے، جبکہ اضافی ناخنوں کے سیٹ کی قیمت 6 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت جیسے جیسے فیشن انڈسٹری میں اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہے، ویسے ہی ذاتی اسٹائل بھی زیادہ لچکدار اور بدلنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اب نیل پالش کی ایک بوتل خرید کر پچھتانے کا وقت ختم ہو چکا ہے، کیونکہ ناخنوں کا رنگ بدلنا اب صرف ایک لمحوں کا کھیل بن گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ناخنوں کا نیل پالش گیا ہے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔