WE News:
2026-06-02@20:44:46 GMT

امریکا نے اخوان المسلمین کو دہشتگرد قرار دے دیا

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

امریکا نے اخوان المسلمین کو دہشتگرد قرار دے دیا

امریکاس نے مصر، لبنان اور اردن میں سرگرم اخوان المسلمین کو دہشتگرد گروپ قرار دے دیا جس کا مقصد دنیا بھر میں اسرائیل کے حریفوں کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید تیز کرنا بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق فرانسیسی وزیراعظم کا بچیوں کے اسکارف پہننے پر پابندی لگانے کا مطالبہ

منگل کو یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم کے کچھ ہفتے بعد آیا جس میں ان کی انتظامیہ کو گروہوں کی بلیک لسٹنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بیان میں کہا کہ یہ اقدامات اخوان المسلمین کی تشدد اور عدم استحکام پھیلانے والی کارروائیوں کو روکنے کی مسلسل کوشش کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ہر دستیاب ذریعہ استعمال کرے گا تاکہ اخوان المسلمین کی شاخوں کو دہشتگردی میں ملوث ہونے یا اس کی حمایت کے لیے وسائل فراہم نہ کیے جا سکیں۔

یہ اقدامات گروپ کو مالی اور مادی تعاون فراہم کرنا غیر قانونی بناتے ہیں موجودہ اور سابق اراکین کے لیے امریکا میں داخلہ پر پابندی عائد کرتے ہیں اور ان کی آمدنی کے ذرائع پر اقتصادی پابندیاں لگاتے ہیں۔

مزید پڑھیے: 5 دہائیوں تک شام پر حکومت کرنے والے الاسد خاندان کے عروج و زوال پر ایک نظر

اخوان المسلمین کی بنیاد سنہ 1928 میں مصری عالم حسن البنا نے رکھی تھی اور اس کے مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور سماجی تنظیمیں موجود ہیں۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن سیاسی شرکت کے لیے کوشاں ہے۔

لبنان میں اخوان المسلمین کی شاخ، الجماعة الاسلامیہ، پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے جبکہ اردن نے گزشتہ سال اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مصر میں یہ گروپ سنہ 2012 کا صدارتی انتخابات جیت چکا تھا لیکن صدر محمد مرسی کو ایک سال بعد فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹا دیا گیا اور وہ سنہ 2019 میں جیل میں انتقال کر گئے تھے۔ سنہ 2013 کے بعد مصر میں اخوان المسلمین پر مکمل پابندی اور کریک ڈاؤن کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ تنظیم زیر زمین اور جلاوطن ہو گئی۔

لبنان میں الجماعة الاسلامیہ نے حماس اور حزب اللہ کی حمایت کی اور سنہ 2024 میں اسرائیل کے خلاف مکمل جنگ میں بھی غزہ کے حق میں مؤقف اختیار کیا۔ لبنانی پارلیمنٹ کے رکن عماد الحوت نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں کسی بھی سیاسی تنظیم کی قانونی حیثیت صرف لبنانی آئین اور قوانین کے تحت طے ہوتی ہے نہ کہ امریکی مفادات یا اسرائیل کی حمایت میں خارجہ دباؤ کے تحت۔

مصری اخوان المسلمین نے بھی صدر ٹرمپ کے حکم کو مسترد کیا اور کہا کہ سابقہ امریکی انتظامیہ نے کبھی اس گروپ کو بلیک لسٹ کرنے سے انکار کیا۔ گروپ نے الزام لگایا کہ دباؤ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی طرف سے ڈالے جا رہے ہیں تاکہ امریکی پالیسیوں کو بیرونی ایجنڈوں کے مطابق ڈھالا جائے۔

امریکا اور مغرب میں دائیں بازو کے سرگرم کارکن کئی سالوں سے مسلم تارکین وطن اور اسرائیل کے ناقدین کو اخوان المسلمین سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: فلسطینی مزاحمتی تحریک ’حماس‘ کیا ہے؟

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی ریاستوں ٹیکساس اور فلوریڈا نے مسلم برادرہ کے ساتھ امریکی مسلم شہری حقوق گروپ کو بھی ’دہشتگرد‘ قرار دیا، جبکہ اس گروپ نے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور اخوان المسلمین سے اپنے تعلقات سے انکار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخوان المسلمین اخوان المسلمین دہشتگرد قرار امریکا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اخوان المسلمین اخوان المسلمین دہشتگرد قرار امریکا اخوان المسلمین کی ٹرمپ کے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان