ایرانی احتجاج جاری رکھیں، اداروں کا کنٹرول سنبھالیں، مدد پہنچنے والی ہے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے عوام کو مدد پہنچنے والی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھالیں۔
انہوں نے مظاہرین کے قتل اور تشدد میں ملوث افراد کے نام محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیاکہ جب تک مظاہرین کے بے مقصد قتل کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، اور اب تک تصادم میں 200 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ایران کی حکومت نے ملک میں ہونے والی افراتفری کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے، جبکہ ایران کے سابق جلا وطن ولی عہد اور اسلامی جمہوریہ کے نمایاں مخالف رضا پہلوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ’قومی انقلاب کی فتح‘ کے موقع پر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔