ایرانی انٹیلی جنس کی کارروائیاں، سمگل شدہ الیکٹرانک آلات، ہتھیاروں کی کھیپ ضبط، دہشتگرد ٹیم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بیان میں مزید کہا گیا کہ "کرائے کے قاتلوں اور دہشت گرد گروہوں کا مقصد ان علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنا تھا جہاں کوریج میسر نہیں، تاکہ ان مواصلاتی رابطوں کو فوجی، سیکورٹی اور صنعتی شعبوں میں جاسوسی اور حساس مقامات پر تخریبی کارروائیوں کی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔" اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے آج بروز منگل ایک بھاری مقدار میں جدید الیکٹرانک آلات کی شپمنٹ ضبط کر لی ہے جو علاقائی ممالک سے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل کی گئی تھی اور اس کا مقصد فسادات اور شورش کو سپورٹ کرنا تھا۔ اس شپمنٹ میں 100 لمبی دوری کے ریسیور ڈیوائسز، 50 سگنل بوسٹرز (BTS)، 743 مختلف برانڈز کے 5G موڈیمز، 799 نئی نسل کے موبائل فونز شامل تھے۔ وزارت نے مزید کہا کہ یہ سامان ان صوبوں میں تقسیم کیا جانا تھا جو حالیہ بدامنی سے متاثر ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "کرائے کے قاتلوں اور دہشت گرد گروہوں کا مقصد ان علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنا تھا جہاں کوریج میسر نہیں، تاکہ ان مواصلاتی رابطوں کو فوجی، سیکورٹی اور صنعتی شعبوں میں جاسوسی اور حساس مقامات پر تخریبی کارروائیوں کی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔"
فسادات پھیلانے والے اہم عناصر کی شناخت اور گرفتاری
وزارت نے بتایا کہ وہ تہران میں حالیہ دنوں میں ہونے والے فسادات کے "اہم محرک عناصر" کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی عوام کے موثر تعاون اور خفیہ اداروں کی کارروائیوں کی بدولت ممکن ہوئی۔ ان گرفتار عناصر نے سیکیورٹی فورسز پر حملے، عوامی اور مذہبی مقامات پر تباہ کاریاں کیں۔ انہوں نے تہران میں 7 مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں امام صادق اور ابوذر مسجدوں کو آگ لگانا، ایک اہم شاہراہ کو بلاک کرنا اور بسیج فورسز کے دو اہلکاروں کو شہید کرنا شامل ہے۔ دریں اثناء ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے آج ہی زاہدان شہر میں اسرائیل سے منسلک دہشت گرد سیلز کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا جو ملک کے مختلف سروس سینٹرز میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پریس ٹی وی کے مطابق ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب گراؤنڈ فورس نے ملک کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان و بلوچستان میں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب ہے، اسرائیل سے وابستہ متعدد دہشت گرد ٹیموں کو تباہ کر دیا اور ان سے کئی امریکی ساخت کے فوجی ہتھیار برآمد کیے۔
ہتھیاروں کی کھیپ اور دہشتگرد سیل کی گرفتاری
سیپاہ نیوز ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیل سے منسلک دہشت گرد ایران کی مشرقی سرحدوں سے گھس کر آئے اور صوبائی دارالحکومت زاہدان میں سات مختلف ٹھکانوں میں چھپے ہوئے تھے۔ ان ٹیموں کو بعد میں IRGC گراؤنڈ فورس کی قدس بیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی انٹیلی جنس فورسز کی مشترکہ بڑے پیمانے پر کارروائی کے دوران پکڑا گیا۔ سیکورٹی آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے کئی امریکی ساخت کے فوجی درجے کے اسلحہ کے علاوہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ اسرائیل سے وابستہ دہشت گردوں نے مبینہ طور پر بیرون ملک سخت تربیت حاصل کی تھی اور ایران کے اندر تخریب کاری اور دہشت گردی کے اعمال انجام دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسی طرح ایرانی سرحدی پولیس فورسز نے سیستان و بلوچستان میں اسمگل شدہ ہتھیاروں کی ایک کھیپ بھی پکڑ لی۔ برآمد شدہ اسلحہ گزشتہ چند دنوں میں ملک بھر میں ہونے والی ہنگامہ آرائیوں کے دوران عوامی اور نجی املاک کو آگ لگانے اور وسیع نقصان پہنچانے والے تخریب کاروں اور فسادیوں میں تقسیم کرنے کے لیے تھا۔ ان اسلحہ میں 21 پسٹلیں، چار کلاشنکوف خودکار رائفلیں، دو شکاری رائفلیں اور 2,516 گولیاں شامل تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس اسرائیل سے مقامات پر اور دہشت
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔